تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 304

خطبه جمعه فرموده 7 اگست 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رحم آ گیا اور آپ ﷺ نے اسے شامل ہونے کی اجازت دے دی۔حضرت عبدالرحمن بن عوف جو عشرہ مبشرہ میں سے تھے، جنگ میں ان کے دائیں بائیں یہ دونوں لڑکے کھڑے تھے ، وہ کہتے ہیں میں اپنے دل میں افسوس کر رہا تھا کہ آج چھوٹے چھوٹے لڑکے میرے دائیں اور بائیں ہیں میں کس طرح لڑ سکوں گا؟ کہ اتنے میں دائیں طرف سے مجھے کہنی پڑی میں نے مڑ کر دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ اُس لڑکے نے جو میرے دائیں طرف کھڑا تھا مجھے کہنی ماری ہے، مجھے اپنی طرف متوجہ پا کر کہنے لگا چا! وہ ابو جہل کون سا ہے جو مکہ والوں کا سردار ہے ؟ میں نے سنا ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا دکھ دیا کرتا ہے میں نے آج اُس سے بدلہ لینا ہے۔وہ کہتے ہیں میں ابھی اُسے جواب بھی دینے نہ پایا تھا کہ دوسری طرف سے مجھے کہنی پڑی میں نے مڑ کر دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ بائیں طرف کے لڑکے نے مجھے کہنی ماری ہے اُس نے بھی مجھے اپنی طرف متوجہ پا کر کہا چا! وہ ابو جہل کون سا ہے جو مکہ والوں کا سردار ہے اور جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت دُکھ دیا کرتا ہے؟ میں نے آج اُس کی جان لینی ہے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ باوجود ایک تجربہ کار جرنیل ہونے کے میں خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ میں ابو جہل کو مار سکوں گا کیونکہ وہ قلب لشکر میں کھڑا تھا اور پہرہ داروں کے جھرمٹ میں تھا اور بہادر سپاہی اس کی حفاظت کے لئے نکی تلواریں لئے اس کے پہرہ پر کھڑے تھے لیکن جب دونوں لڑکوں نے مجھے سے پوچھا تو میں نے انگلی اٹھائی اور کہا دیکھو وہ جو قلب لشکر میں گھوڑے پر سوار ہے اور جس کے آگے پیچھے سپاہی جنگی تلوار میں لئے کھڑے ہیں وہ ابو جہل ہے۔وہ کہتے ہیں ابھی میرا ہاتھ نیچے نہیں آیا تھا کہ جس طرح باز چڑیا پر حملہ کرتا ہے وہ دونوں کود کر لشکر کفار میں گھس گئے اور اس تیزی سے گئے کہ پہرہ داروں کے حواس باختہ ہو گئے مگر پھر بھی ایک پہرہ دار نے ان میں سے ایک کا ہاتھ کاٹ دیا مگر اس نے اس کی پروانہ کی اور ابو جہل تک پہنچ ہی گیا اور دونوں لڑکوں نے مل کر ابو جہل کو گرا دیا اور اسے بری طرح زخمی کر کے گرادیا جو بعد میں عبد اللہ بن مسعودؓ کے ہاتھ سے مارا گیا۔یہ وہ لوگ تھے جن کو ایک ہی دھن تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی اطاعت میں دنیا میں ایک نیا تغیر پیدا کر دیں۔انہوں نے اطاعت کی اور اس کا پھل پالیا۔آج ہم جو کچھ کریں گے اس کا پھل آئندہ زمانہ میں پالیں گے مگر یہ چیز ہے جس کی طرف جماعت کو لا نا ہمارا فرض ہے اسی لئے آج کل میں بالکل پروا نہیں کر رہا اور جماعت کا قدم آگے سے آگے بڑھا رہا ہوں اور اسی وجہ سے جو قادیان کے منافق ہیں وہ بھی پہلے سے زیادہ اعتراض کرنے لگ گئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ لوگوں پر بوجھ چونکہ زیادہ پڑ رہا ہے اس لئے وہ جلدی ان کے دھوکہ اور فریب میں آجائیں گے مگر وہ نہیں 304