تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 275
تحریک جدید- ایک اپنی تحریک۔۔۔جلد اول اچھا! ہم ان کو مٹادیں گے۔خطبہ جمعہ فرمودہ 15 مئی 1936ء حضرت نظام الدین اولیاء کا ایک واقعہ میں نے کئی بار سنایا ہے وہ بادشاہ کے دربار میں نہیں جایا کرتے تھے مخالفوں نے بادشاہ کو اکسایا کہ یہ اپنی حکومت بنانا چاہتے ہیں۔بادشاہ ناراض ہو گیا۔وہ بہار کی طرف جارہا تھا اس لئے اس نے کہا کہ واپس آکر سزا دیں گے۔چنانچہ جب وہ واپس آرہا تھا آپ کے مریدوں نے عرض کیا کہ حضور بادشاہ آیا ہی چاہتا ہے کوئی صورت کرنی چاہئے جس سے وہ سزا نہ دے مگر آپ نے فرمایا: ہنوز دلی دور است۔وہ اور قریب آیا مریدوں نے پھر توجہ دلائی مگر آپ نے پھر وہی جواب دیا حتی کہ بادشاہ شہر کے باہر آ موجود ہوا، اسلامی طریق یہی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھا کہ رات شہر کے باہر ہی قیام کر کے صبح شہر میں داخل ہوتے اس کے مطابق بادشاہ نے بھی رات شہر سے باہر قیام کیا۔مرید اور بھی پریشان تھے انہوں نے پھر جا کر عرض کیا کہ کوئی تدبیر کی جائے مگر آپ نے فرمایا کہ: ہنوز دتی دور است۔رات جشن ہوا، بادشاہ کے لڑکے اور دوسرے امرا نے دعوتیں کیں اور ہجوم اتنا ہو گیا کہ چھت گر پڑی اور بادشاہ دب کر مر گیا۔پس اگر تم خدا تعالٰی سے تعلق پیدا کرلو، کچی قربانیوں کے لئے تیار ہو جاؤ اور ان باتوں پر غور کرو جو میں بتاتا ہوں اور جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو ضرور کامیاب ہو کر رہو گے۔زمانہ تمہیں نافرمانی کی سز ایا اتباع کے نتیجہ میں کامیابی دے کر بتا دے گا کہ یہ باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور ایک بھی میری نہیں لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ ضروری ہے کہ جو سلوک پہلے ابنیاء علیہم السلام کی جماعتوں سے ہوا وہ تم سے ہو اور جب تم ان امتحانوں میں پاس ہو جاؤ گے تو تمہاری فتح بھی یقینی ہوگی۔اگر اپنی اصلاح کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکات نازل ہوں گی اور اگر ستی کرو گے تو انجام جتنا بھیانک ہے وہ میں نے بتا دیا ہے۔ابھی دشمن جو کہتا ہے ڈرتے ڈرتے کہتا ہے کہ شاید حکومت پکڑ نہ لے مگر پھر بھی وہ کہہ چکا ہے کہ احمدیوں کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔گو حکومت کا رویہ احرار کو پکڑنے والا نہیں۔بار بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دی جاتی ہیں خصوصاً اخبار مجاہد کی طرف سے تو حکومت نے کانوں میں روئی ٹھونسی ہوئی ہے، وہ بار بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دجال، کذاب ، شرابی ، عیاش اور زانی لکھتا ہے لیکن حکومت کو ذرا احساس نہیں ہوتا کہ ایک قانون ہے جو اس نے خود بانیان مذاہب کی عزت کے تحفظ کے لئے بنوایا ہوا ہے وہ کہاں گیا ؟ ان حالات میں سوائے اس کے کہ ”مجاہد اور بعض افسروں میں سمجھوتہ ہے اور کیا کہہ سکتے ہیں؟ دشمن جس قسم کی شرارت کر رہا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ اسے بعض فضول 275