تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 274

خطبہ جمعہ فرموده 15 مئی 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول دور کرتی ہیں لیکن نکما آدمی تو اس سے بھی بدتر ہے۔پھر میں نے توجہ دلائی ہے کہ صلح کرو اور آپس میں محبت پیدا کرومگر اس کی طرف بھی پوری توجہ نہیں کی جاتی۔غرض جماعت کا معتدبہ حصہ ایسا ہے یہ نہیں کہ ساری کی ساری جماعت ایسی ہے مگر غربا میں بھی اور امرا میں بھی ایسے لوگ ہیں جو ہمارے ملک کے اس عام مرض میں مبتلا ہیں۔یہ لوگ وعظ مزے لینے کے لئے سنتے ہیں عمل کے لئے نہیں اگر عمل کے لئے سنتے تو آج تک ولایت اور سلوک کی منازل طے کر چکے ہوتے مگر وہ مزے کے لئے سنتے یا اخبار میں پڑھتے ہیں۔اگر جماعت ان باتوں کی طرف توجہ کرے جو میں بتاتا ہوں تو یقیناً وہ وعدے پورے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے کئے ہیں اور جو پہلے انبیاء علیہم السلام کی جماعتوں کے متعلق پورے ہوئے۔پہلے ہمیں کہا جاتا تھا کہ ذرا افغانستان جاؤ، ایران جاؤ اور دیکھو وہاں تمہارے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے؟ مگر اب اس نئے انتظام کے ماتحت چونکہ خیال ہو گیا ہے کہ حکومت ہندوستانیوں کو مل جائے گی اس لئے کہا جاتا ہے کہ ملک سے نکال دیں گے مگر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی فرما دیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے مخالف ہمیشہ ان کو یہ کہتے رہے ہیں کہ :۔لَنُخْرِ جَنَّكُمْ مِنْ أَرْضِنَا یعنی ہمیشہ رسولوں کو ان کی کا فرقو میں یہ کہتی رہی ہیں کہ ہم تمہیں اس ملک سے نکال دیں گے ورنہ اپنا دین چھوڑ کر ہمارے ساتھ مل جاؤ۔یہ مماثلت بھی آج احرار نے پوری کر دی ہے۔معلوم ہوتا ہے یہ اپنے جیسے پہلے سب لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں کیونکہ احرار کے منہ سے لَتَعُودَنَّ نہیں نکلا بلکہ صرف یہی کہتے ہیں کہ پکڑ کر سمندر پار کر دیں گے لیکن اللہ تعالٰی مومنوں کو تسلی دیتا اورفرماتا ہے کہ:۔(ابراہیم :14) (ابراہیم: 14) فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ یعنی یہ کیا نکالیں گے؟ اللہ تعالیٰ ان کو دنیا سے نکال دے گا۔پس اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہو کر رہے گا مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے وہ تبدیلی پیدا کرو جو نبیوں کی جماعتوں کے لئے ضروری ہے۔یہ تو ابتدائی زینہ ہے جو میں نے بتایا ہے اسے انتہائی سمجھ کر بیٹھ نہ جاؤ اس سے بہت بڑی بڑی قربانیوں کا نقشہ میرے ذہن میں ہے اور اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو اپنے وقت پر میں انہیں بیان کروں گا اور اگر آپ دیانت داری کے ساتھ میری اتباع کریں گے تو جس طرح یہ یقینی بات ہے کہ اس وقت سورج نصف النہار پر ہے اسی طرح فتح یقینی ہو گی مگراللہ تعالیٰ کی برکتیں کام سے نازل ہوتی ہیں پہلے اس کے بن جاؤ، اسے اپنا رب بنالو پھر اس کی طرف سے تمہیں وحی ہوگی کہ لَنُهْلِكُنَّ الظَّلِمِینَ یعنی بہت 274