تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 276
خطبہ جمعہ فرمودہ 15 مئی 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔۔جلد اول افسروں کی انگیخت اور سہارا ہے لیکن اگر آپ لوگ دینی اصلاح کر کے اللہ تعالیٰ پر توکل کریں تو ایسے سمجھوتے سب کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ جائیں گے، ایسے بددیانت حاکموں کو بھی ضرور سزا ملے گی ، ان کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل جائے گی خواہ اللہ تعالیٰ ان سے بڑے افسروں کے ذریعہ ان کو سزا دے یا آسمان سے حکم جاری کرے لیکن اگر ہماری طرف سے سستی اور غفلت ہو تو اللہ تعالیٰ کی غیرت بھڑ کنے کی کوئی وجہ نہیں اور وہ انتظار کرے گا جب تک کہ ہم اصلاح نہ کرلیں یا ہماری جگہ کوئی اور قوم نہ کھڑی ہو جائے۔جب تک ہم اپنے نفسوں میں تبدیلی نہ کریں گے، جب تک جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانی کے لئے تیار نہ ہوں گے، بستیوں اور غفلتوں کو ترک نہ کریں گے اس وقت تک کامیابی محال ہے۔ابھی ایک مقدمہ میرے پاس آیا اور عمر بھر میں میرا یہ پہلا تجربہ تھا کہ فریقین کی باتیں اتنی متضاد تھیں کہ ایک ان میں سے ضرور خطرناک جھوٹ بول رہا تھا۔احمدیوں کے متعلق یہ میرا پہلا مشاہدہ تھا کہ ایک فریق خطرناک جھوٹ بول رہا تھا اور ایک موقع پر تو فریقین نے اقرار کر لیا کہ فلاں وقت وہ دونوں جھوٹ بول چکے ہیں۔پس جب تک اپنی اصلاح نہ کرو گے عزت نصیب نہیں ہوگی۔جب تک آپس میں صلح نہ کر وہ محبت پیدا نہ کروہ محنت کی عادت نہ ڈالو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی کس طرح اُمید کر سکتے ہو؟ پس مالی اور جانی قربانیوں کے لئے خود بھی تیار ہو جاؤ اور اولادوں کو بھی قربانی کے لئے تیار کرو ان کو تختی محنت اور مشقت کا عادی بناؤ، ایثار اور سچائی کی عادت ڈالو۔ہماری جماعت کو تو سچ پر اس طرح قائم ہونا چاہئے کہ اگر احمدی کوئی بات کہہ دے تو لوگ خاموش ہو جا ئیں کہ بس یہی سچی ہے۔یہ دن لے آؤ پھر دیکھو کس طرح فتح قریب آتی ہے۔جس طرح خدا تعالیٰ قریب بھی ہے اور دور بھی اسی طرح مومن کی کامیابی دور بھی ہوتی ہے اور نزدیک بھی۔لوگ خدا کو کتنا دور سمجھتے ہیں کہ ساری عمر میں بھی اس تک نہیں پہنچ سکتے مگر وہ اتنا قریب ہے کہ ایک منٹ میں انسان اسے حاصل کر سکتا ہے۔یہی حال مومن کی کامیابی کا ہے دنیا کو وہ سینکڑوں سالوں میں جا کر حاصل ہوتی ہے مگر مومن جب ارادہ کر لیتا ہے تو فوراً کامیاب ہو جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دورمت سمجھو۔اگر اپنی اور اپنی اولادوں کی اصلاح کر لو تو گورات کو آسمان پر مایوسیوں کے بادل تمہیں نظر آتے ہوں مگر جب صبح اُٹھو گے تو تم ہی دنیا کے بادشاہ ہو گے۔“ (مطبوعہ الفضل 22 مئی 1936 ء ) 276