تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 273

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 15 مئی 1936ء ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا کہ جو اس وجہ سے اولاد سے کام نہیں کراتے کہ گرمی زیادہ ہے بھوکے مریں گے مگر جب کہا جائے کہ جو کار خانے کھولے جا رہے ہیں ان میں اولاد کو داخل کر دو تو کہیں گے کہ وہاں گرمی میں کام کرنا پڑتا ہے۔ہم تو گرم ملک کے رہنے والے ہیں مگر سرد ملک کے رہنے والے انگریز گرمی میں کام کرنے سے نہیں گھبراتے۔انگلستان میں چھ ماہ تو برف پڑی رہتی ہے اور گرمیوں میں بھی اتنی سردی ہوتی ہے کہ آدمی ٹھٹھر نے لگتا ہے۔جب میں وہاں گیا تھا تو سخت گرمی کا موسم تھا حافظ روشن علی صاحب مرحوم نے گرم پاجامہ پہنا اور کہنے لگے کہ میں نے ہندوستان میں سخت سردیوں کے موسم میں بھی اسے کبھی نہ پہنا تھا مگر ایسے سرد ملک کے رہنے والے لوگ انجنوں پر کام کرتے ہیں اور ہمارے ملک کے لوگ شکایت کرتے ہیں کہ انگریزوں نے نوکریاں سنبھال لی ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ کیوں نہ سنبھالیں وہ نہیں سنبھالیں گے تو کیا وہ سکتے لوگ سنبھالیں گے جو گر می گرمی پکارتے ہیں اور اولادوں کو گھروں میں بے کار بٹھائے رکھتے ہیں۔میں نے الفضل والوں کو کہا تھا کہ وہ شہروں میں ایجنسیاں قائم کر دیں مگر وہ شکایت کرتے ہیں کہ نوجوان یہ کام نہیں کرتے اور کوئی کرتا ہے تو روپیہ نہیں دیتا۔جس قوم کے نوجوان چند پیسے بھی لے کر ادا نہ کریں اور بے کار پھریں، کام کے لئے تیار نہ ہوں وہ کب اُمید کر سکتی ہے کہ زندہ رہے گی؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے جس سے مخالف مراد ہیں مگر جماعت کو بھی اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔آپ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ایک بڑی لمبی نالی ہے اور اس نالی پر ہزار ہا بھیٹر میں لٹائی ہوئی ہیں اس طرح پر کہ بھیڑوں کا سرنالی کے کنارہ پر ہے اس غرض سے کہ تا ذبیح کرنے کے وقت ان کا خون نالی میں پڑے، ہر ایک بھیڑ پر ایک قصاب بیٹھا ہے اور ان تمام قصابوں کے ہاتھ میں ایک ایک چھری ہے جو ہر ایک بھیٹر کی گردن پر رکھی ہوئی ہے اور آسمان کی طرف ان کی نظر ہے۔گویا اللہ تعالیٰ کی اجازت کے منتظر ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ جو دراصل فرشتے ہیں بھیڑوں کے ذبح کرنے کے لئے مستعد بیٹھے ہیں محض آسمانی اجازت کی انتظار ہے تب میں ان کے نزدیک گیا اور میں نے قرآن شریف کی یہ آیت پڑھی:۔قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان: 78) یعنی میرا خدا تمہاری کیا پر وا کرتا ہے اگر تم اس کی پرستش نہ کرو اور اس کے حکموں کو نہ سنو۔میرا یہ کہنا ہی تھا کہ فرشتوں نے فی الفور اپنی بھیڑوں پر چھریاں پھیر دیں اور کہا تم چیز کیا ہو؟ گوں کھانے والی بھیڑیں ہی ہو۔مطلب یہ ہے کہ وہ سکتے لوگ مٹا دیئے جاتے ہیں۔بھیڑیں تو پھر بھی گوں کھا کر نجاست کو 3 273