تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 272
خطبہ جمعہ فرمودہ 15 مئی 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد اول لیں۔یہ اس Mentality اور ذہنیت کا آخری نتیجہ ہے جو انسان کو بے عمل کر دیتی ہے۔ہر بُرے عمل کا آخری نتیجہ اس کے بھیانک پن کو ظاہر کر دیتا ہے۔ایسا انسان جو وعدہ کرتا ہے مگر پورا نہیں کرتا وہ خدا کو دھوکہ دینا چاہتا ہے وہ سمجھتا ہے خدا یہ نہیں دیکھے گا کہ اس نے کتنا دیا بلکہ صرف یہ دیکھے گا کہ وعدہ کتنے کا کیا؟ پھر یہی نہیں کہ لوگوں نے اتنا لکھوایا ہے جو دے نہیں سکتے۔میں جماعت کے حالات سے واقف ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ بعض لوگ اگر اپنی ذمہ داری کو سمجھتے تو اس سے دُگنا دے سکتے تھے جتنا اب دیا ہے۔بہت سے ایسے ہیں جو زیادہ حصہ لے سکتے تھے مگر کم لیا ہے اور پھر بہت ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی حیثیت سے تین چار گنا زیادہ دیا ہے۔ایسے لوگ یقینا اپنے عمل کا بدلہ اللہ تعالیٰ سے لیں گے مگر ان کے اعمال ان لوگوں کے لئے کافی نہیں ہو سکتے جنہوں نے کہنے اور وعدہ کرنے کے باوجود حصہ نہیں لیا۔پنجاب کی ایک بڑی جماعت ہے جس نے پانچ ماہ کے عرصہ میں ایک پیسہ بھی ادا نہیں کیا وہ لکھوا کر سو گئے۔پھر کئی ایسے بھی ہیں جو نہایت غریب ہیں مگر اس عرصہ میں قریباً سارے کا سارا ادا کر چکے ہیں جس سے پتہ لگتا ہے کہ مال کے پاس ہونے یا نہ ہونے کا سوال نہیں بلکہ اخلاص کا سوال ہے۔بیسیوں ایسے ہیں جن کی رقمیں فہرست میں دیکھ کر مجھے شک ہوتا ہے کہ غلطی سے تو نہیں لکھ دی گئیں ؟ کیونکہ بظاہر ان سے اتنا دینے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔تو یہ اخلاص کی بات ہے طاقت کی نہیں۔جتنا ایمان ہو اس کے مطابق کام ہو سکتا ہے۔مجلس مشاورت کے موقع پر جو نمائندے آئے وہ وعدہ کر کے گئے تھے کہ جاتے ہی اس طرف توجہ کریں گے مگر حقیقت یہ ہے کہ نانوے فیصدی نے کوئی توجہ نہیں کی یا کم سے کم ان کی توجہ کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔باقی رہیں دوسری قربانیاں، ان کا بھی یہی حال ہے۔ابھی تک میں یہی سنتا ہوں کہ فلاں کی فلاں سے لڑائی ہے حتی کہ نماز بھی الگ پڑھی جاتی ہے۔ایک دوست نے سنایا کہ ایک جگہ پانچ احمدی ہیں اور پانچوں الگ الگ نماز پڑھتے ہیں۔میں اس دوست پر حیران تھا کہ وہ انہیں احمدی کس طرح کہتے ہیں؟ یہ کہنا چاہئے کہ وہاں احمدیت کے لئے پانچ کلنک کے ٹیکے ہیں اور پانچوں تاریکیاں الگ الگ جگہ چھائی ہوئی ہیں۔احمدی تو بڑا لفظ ہے اس سے ادنی درجہ کا مومن بھی اس قدر بے حیا نہیں ہو سکتا کہ خدا کی عبادت میں بھی تفرقہ ڈالے۔میں نے بار بار کہا ہے کہ خدا کی عبادت میں ایسا نہ کرو مگر بعض لوگوں پر کوئی ایسی لعنت برسی ہے کہ ان پر کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔پھر میں نے بار بار توجہ دلائی ہے کہ اپنی اولادوں کو کام کا عادی بناؤ مگر اس تحریک میں مجھے کئی 272