تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 269

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد اؤل خطبہ جمعہ فرمودہ 15 مئی 1936ء مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدُمَاتَ سنو! تم میں سے بعض سمجھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں یہ شرک ہے اور عبادت ہے۔جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا میں اسے خبر دار کرتا ہوں کہ آپ ﷺ فوت ہو گئے ہیں: وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ لیکن جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے اس کا معبود زندہ ہے اور کبھی نہیں مرسکتا۔پس ہم تو ان لوگوں کے قائم مقام ہیں جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو بھی اللہ تعالیٰ کے مقابلہ پر کھڑا کرنا جائز نہیں سمجھا۔ابو بکر نے تو اتنی غیرت دکھائی کہ کہا: محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسان تھے اور فوت ہو چکے ہیں مگر تم میں سے بعض ایسے بے غیرت ہیں کہ سمجھتے ہیں انگریز ہمیشہ رہیں گے اور ان کی حفاظت کریں گے اور اگر یہی حالت رہی تو یا درکھو کہ انگریزی حکومت کسی دن جاتی ہی رہے گی مگر ساتھ ہی وہ ایسے لوگوں کو بھی لے ڈوبے گی۔صرف خدا زندہ ہے اور وہی زندہ رہے گا جس کا وہ سہارا ہے باقی حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، ان کے نقطہ ہائے نگاہ بھی بدلتے رہتے ہیں مستقبل کا کسی کو کیا علم ہو سکتا ہے؟ آج سے تین سو سال پہلے کسی کو کیا علم تھا کہ انگریزوں کی حکومت اتنی وسیع ہو جائے گی اور کون کہہ سکتا ہے کہ آج سے سوسال بعد ان کی یہ حکومت افسانہ بن کر نہ رہ جائے گی ؟ خوب یا درکھو! کہ انگریز بھی تبھی زندہ رہ سکتے ہیں جب وہ خدائے واحد سے تعلق پیدا کریں اور اسی پر توکل کریں اور تم بھی اسی طرح زندہ رہ سکتے ہو۔زندگی کے سامان سب کے لئے اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں یہ ضروری نہیں کہ جس طرح پہلی قومیں تباہ ہو گئیں انگریز بھی ہو جائیں۔اس میں شک نہیں کہ اگر یہ جھوٹ اور فریب پر اپنی حکومت کی بنیاد رکھیں گے، انصاف کے مقابلہ میں پر سٹیج کا زیادہ خیال رکھیں گے تو جس طرح روما اور کسریٰ کی عظیم الشان سلطنتیں تباہ ہوئیں یہ بھی تباہ ہو جائیں گے لیکن اگر یہ سچ پر قائم ہوں، انصاف کریں اور خدا سے تعلق پیدا کر کے اسی پر تو کل رکھیں تو ان کی جو پچھلی زندگی ہے اس سے بہت زیادہ بھی زندگی انہیں مل سکتی ہے مگر پھر بھی وہ تمہارا سہارا نہیں بن سکتے۔تم خدا کی جماعت ہو اور خدا کو تمہارے لئے غیرت ہے جس طرح کوئی شخص اپنی بیا ہتا بیوی کو کسی غیر کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے پھرتا دیکھے تو اُسے غیرت آتی ہے اسی طرح خدا کو غیرت آتی ہے جب اس کی جماعت کسی غیر کا سہارا لے۔پس انگریز اگر ہمیشہ بھی رہیں تو وہ تمہارا سہارا نہیں بن سکتے۔269