تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 268
خطبہ جمعہ فرمودہ 15 مئی 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول آپ کو سہارا دیا مگر آپ نے اُس کا ہاتھ جھٹک کر پرے کر دیا اور کہا مجھے سہارا کیوں دیتے ہو؟ اس کے ایک گھنٹہ بعد آپ کی وفات ہو گئی۔تو جب ایک معمولی مومن بھی کسی کا سہارا لینا پسند نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ کی خاص جماعت کب ایسا کر سکتی ہے؟ مومن تو ہر ایک ہو سکتا ہے خواہ وہ نبی کے ہزار سال بعد ہو مگر تم میں تو ابھی کئی صحابی موجود ہیں اور تم سب تابعی ہو پھر تم کس طرح یہ پسند کر سکتے ہو کہ کسی کا سہارا لو اور سہارا بھی ان کا جو عیسائی ہیں اور جن کے مذہب کو مٹانے کے لئے تم کھڑے ہو؟ تمہارا ہاتھ ہمیشہ اونچا ہونا چاہئے تم ان کی مدد تو کرو مگر ان کی مددمت لو۔ایک اچھے شہری کی طرح تمہارا فرض ہے کہ ملک میں امن قائم کرو اور اگر حکومت کسی مصیبت میں ہو تو اس کی تائید کرو جس طرح تمہارا یہ فرض ہے کہ اگر حکومت رعایا پر ظلم کرے تو رعایا کی مدد کرو مگر تمہارے لئے یہ ہرگز جائز نہیں کہ بھیک کا ٹھیکرا لے کر اس کے پاس مانگنے جاؤ۔مومن کی غیرت کا مقام بہت بلند ہوتا ہے وہ مر جانا پسند کرتا ہے مگر مانگنا پسند نہیں کرتا اور دوسرے کو اپنا سہارا بنانا گوارا نہیں کر سکتا۔تم کس طرح مؤخد ہو سکتے ہو جب یہ سمجھو کہ انگریز تمہاری جانیں بچائیں گے؟ اگر تمہاری جانوں کا انحصار انگریزوں پر ہے تو یہ آج بھی نہیں ہیں اور کل بھی نہیں۔انگریزوں کی حکومت بھی آخر انسانوں کی حکومت ہے جو ہمیشہ نہیں رہ سکتی۔اب سینیا کا جو حشر ہوا ہے اس کے بعد خود انگریزی اخبار لکھ رہے ہیں کہ انگریزی حکومت لڑکھڑا رہی ہے اور شاید یہ پہلا موقع ہے کہ انگریزی حکومت کے وزیر اعظم نے یہ کہا ہے کہ میں اپنے نفس میں ذلت محسوس کر رہا ہوں۔پس آدمیوں پر انحصار کرنا حماقت ہے۔تم اپنے نفسوں میں وہ قوت پیدا کرو کہ کوئی دشمن تم کو ہلاک نہ کر سکے اور ایسی طاقت اول ایمان کی طاقت ہے اور دوسرے اتحاد اور قوت عمل کی۔انسان جب ایمان لے آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا نگران ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کبھی نہیں مرتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے الله زیادہ صحابہ کو کس سے عشق ہو سکتا تھا؟ چنانچہ جب آپ ﷺ فوت ہوئے تو حضرت عمر تلوار لے کر کھڑے ہو گئے کہ جو کہے گا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں میں اُسے قتل کر دوں گا ! حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اس وقت باہر گئے ہوئے تھے جب آپ کو خبر ہوئی تو آپ آئے اور اندر گئے، جسد اطہر پر سے کپڑا اٹھایا، ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں ! اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر دو موتیں وارد نہیں کرے گا یعنی ایک تو جسمانی موت آئی ہے اس کے ساتھ یہ نہیں ہوسکتا کہ پ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت خراب ہو جائے اس کے بعد آپ باہر آئے اور کہا کہ لوگو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں جس طرح تمام پہلے انبیاء علیہم السلام فوت ہو چکے ہیں: 268