تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 270

خطبہ جمعہ فرمودہ 15 مئی 1936ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول باقی رہے دوسرے دشمن، ان کا نقشہ قرآن کریم نے ان الفاظ میں کھینچا ہے کہ: قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ (آل عمران: 119 ) ان کا بغض ان کے مونہوں سے ظاہر ہو گیا ہے اور جو دلوں میں ہے وہ بہت زیادہ ہے۔امرت سر میں احرار کی جو کانفرنس ہوئی ہے اس میں اس امر پر بہت زور دیا گیا ہے کہ ہمارا کام ہندوستان سے انگریزوں کو نکالنا ہے اور اس کے ساتھ سب احمدیوں کو بھی۔یہ : قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ (آل عمران: 119 ) ہے لیکن ان کے دلوں میں جو ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے اور وہ یہ ہے کہ نکالیں گے کیوں یہیں پھانسی پر لٹکا ئیں گے۔یہ وہ دشمن ہے جو تمہارے گرد گھیرا ڈال رہا ہے، روز بروز زیادہ منظم ہو رہا اور طاقت پکڑ رہا ہے۔چاہے وہ احرار کی صورت میں ہو اور چاہے کسی اور صورت میں ہو۔شیطان کو اس سے غرض نہیں کہ اس کا نام احرار ہی رہے۔تمہاری نظر مجلسوں پر ہے اور تم سمجھتے ہو مجلس احرار کو کل جو طاقت حاصل تھی وہ آج نہیں۔حالانکہ میں نے بار بار کہا ہے کہ تمہارا مقابلہ احرار سے نہیں شیطان سے ہے۔مجھے یاد ہے ہم میں سے بعض کہا کرتے تھے کہ اب مولوی ثناء اللہ صاحب کی طاقت ٹوٹ گئی ہے مگر اب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ ان کی طاقت زیادہ تھی یا احرار کی؟ اسی طرح اب بعض یہ خیال کر رہے ہیں کہ احرار کی طاقت ٹوٹ گئی ہے اب ہم سو جائیں مگر یاد رکھو! تمہارے لئے سونا مقدر نہیں۔تم یا تو جاگو گے یا مرد گے یہ ممکن نہیں کہ لمبی دیر تک سو سکو جب سوؤ گے مرد گے۔یہ سچائیاں ہیں جو ہر نبی کے زمانہ میں ظاہر ہوئیں قرآن کریم کو پڑھو اس کا ایک ایک لفظ اس کی تصدیق کرے گا پھر کیا تمہیں اس پر بھی اعتبار نہیں کہ سمجھتے ہو تمہارے ساتھ ویسا نہ ہوگا ؟ حضرت آدم، حضرت ابراہیم ، حضرت نوح، حضرت موسیٰ ، حضرت داؤد اور حضرت عیسی علیہم السلام اور سب سے آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت جو کچھ ہوا کیوں کر ممکن ہے کہ وہ پیالہ تم کو نہ پینا پڑے؟ وہ ضرور پینا پڑے گا۔اگر منہ سے نہیں پیو گے تو نلکیوں کے ذریعہ نتھنوں کے رستہ پلایا جائے گا اگر اس طرح بھی نہیں پیو گے تو پیٹ چاک کر کے پلایا جائے گا۔دشمن اس فکر میں ہے کہ تم کو ہندوستان سے نکال دے اور یہ وہ چیز ہے جس کا اظہار اس کے منہ سے ہو گیا۔اس کے دل میں جو کچھ ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے اور تم اس خیال میں ہو کہ ایک حکومت ہے جو قانون کی پابند ہے اور وہ 270