تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 14

اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 16 نومبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول اپنی جماعت کے متعلق لگایا ہے ورنہ دوسرے مسلمانوں میں سے تو سو میں سے شاید ایک قائم رہے اور ننانوے اپنے عہد سے منحرف ہو جائیں لیکن جان دینے کی قربانی کا اگر سوال ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ ایسی حالت میں بھی جبکہ مسلمانوں کا نظام ٹوٹ چکا اور ان کی اسلامی محبت مر چکی ہے ان میں سے سو میں سے ایک دوضرور نکل کھڑے ہوں گے لیکن اگر تھوڑی مگر مستقل قربانی کا مطالبہ کیا جائے تو لاکھوں مسلمانوں میں سے ایک بھی نہیں نکلے گا اور میں جب کہتا ہوں کہ لاکھوں مسلمانوں میں سے ایک بھی نہیں نکلے گا تو میں مبالغہ نہیں کرتا بلکہ مسلمانوں کے متعلق اپنا تجربہ بیان کرتا ہوں۔مسلمانوں کے سامنے کئی سیاسی کام آئے مگر دو چار دن جوش دکھا کر وہ رہ گئے۔پس عام مسلمانوں کے مقابلہ میں اپنی جماعت کے متعلق مستقل قربانی کے سلسلہ میں جب میں پچاس فیصدی افراد کا اندازہ لگاتا ہوں تو درحقیقت میں اپنی جماعت کی بہت کچھ تعریف کرتا ہوں لیکن ہماری تسلی تو پچاس پر نہیں ہوتی بلکہ سو پر ہوا کرتی ہے اور جب تک ہم سو فیصدی مکمل نہ ہو جا ئیں اُس وقت تک امن نصیب نہیں ہوسکتا۔میں سمجھتا ہوں اگر میں قربانی کے لئے اپنے نام پیش کرنے والوں میں سے کسی کو بلا کر کہوں کہ تم نے قربانی کرنے کا وعدہ کیا ہے روزانہ رات کو نو بجے سے صبح ساڑھے پانچ بجے تک کھڑے رہا کرو تو بالکل ممکن ہے وہ اس قربانی کے لئے تیار نہ ہولیکن اگر میں یہ کہوں کہ جاؤ اور کود کر مر جاؤ تو ایک منٹ بلکہ ایک لحظہ کے لئے بھی وہ اس سے انکار نہیں کرے گا یا مثلاً میں کہوں کہ صبح چھ بجے میرے دفتر میں آؤ اور خاموش بیٹھے رہو اور شام کو اپنے گھر واپس چلے جایا کرو تو آٹھویں دن ہی مجھے رقعے آنے شروع ہو جائیں کہ میں بے کار بیٹھا ہوں مجھے کام نہیں کوئی کام بتائیے۔حالانکہ حقیقی قربانی وہی ہوتی ہے جو خواہ قلیل ہو مگر انسان استقلال سے اُسے سرانجام دے۔“ (مطبوع أفضل 22 نومبر 1934 ء ) 14