تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 15

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 23 نومبر 1934ء دین کی خاطر قربانیاں کرنے کے لئے ماحول پیدا کرنے کی ضرورت خطبہ جمعہ فرمودہ 23 نومبر 1934ء سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں نے گزشتہ جمعہ میں اس آئندہ تجویز کے متعلق اور اس لائحہ عمل کے متعلق جو میں جماعت کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں ، تمہیدی طور پر ایک بات بیان کی تھی۔اب میں اسی تمہید کے سلسلہ میں ایک اور بات بیان کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ دنیا میں بعض باتیں انسان کو مجبورا اپنے مخالفوں سے چھپانی پڑتی ہیں وہ اپنی ذات میں بری نہیں ہوتیں، اس فعل کے معا بعد اگر اُن کو ظاہر کر دیا جائے تو دنیا کا کوئی شخص اعتراض نہیں کر سکتا لیکن جس وقت ان پر عمل کیا جارہا ہوا گر مخالف کو اُس کا علم ہو جائے تو انسان کے لئے کامیابی مشکل ہو جاتی ہے۔مثلاً ایک فوج ایک شہر پر حملہ کرتی ہے ایک مظلوم قوم کی فوج جو ظالم کے دفاع کے لئے بلکہ اس قلعہ کے فتح کرنے کے لئے آگے بڑھتی ہے، جو اُس کا اپنا تھا تو یہ نہ صرف اچھی بات ہے بلکہ ثواب کا موجب ہے لیکن اگر یہ لوگ دشمن کی فوج کو یہ کہلا بھیجیں کہ ہم فلاں درہ سے داخل ہوں گے، اتنے سپاہی، اتنی بندوقیں، اتنی تو ہیں ہمارے ساتھ ہوں گی، ہمارے لڑنے کا طریق یہ ہوگا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ دشمن ان کے پہنچنے سے پہلے ہی ان کا توڑ سوچ لے گا اور آسانی سے ان کے حملہ کو ر ڈ کر دے گا۔پس گو اس قسم کا حملہ نیک کام ہے اور ثواب کا موجب ہے مگر اس کے اظہار کی جرات کوئی نہیں کرے گا اور سوائے کسی بے وقوف کے کوئی اس کی تفاصیل کو ظاہر کرنے کے لئے تیار نہ ہوگا اسی طرح اگر ہم تبلیغ کے لئے کوئی جگہ چن لیں یا کوئی طریق تبلیغ تجویز کریں اور اس کا اعلان بھی کر دیں تو اس کا لازمی یہ نتیجہ ہو گا کہ مخالف بھی اپنا سارا از ور اس تجویز کو نا کام بنانے میں صرف کر دے گا اور اس طرح بالکل ممکن ہے کہ ہماری تجویز بہت حد تک نامکمل رہے۔پس جس طرح ایک ہوشیار جرنیل کا کام ہے کہ دشمن کی طاقتوں کو خاص طرف لگائے رکھے اور اپنی طاقتوں کو دوسری طرف خرچ کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ کامیابی حاصل کر سکے اسی طرح تبلیغی منتظم کا فرض ہے کہ مخالف پروپیگنڈا کو ایسی جہت پر لگائے رکھے کہ تبلیغ کے کام کو نقصان نہ پہنچے اور مخالف فریق کو اصل کام کی حقیقت کا علم نہ ہوا اور اس طرح دشمن کو اس سے 15