تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 13
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول "" اقتباس از خطبه جمعه فرموده 16 نومبر 1934ء اعلان کردہ سکیم کے متعلق چند باتیں خطبہ جمعہ فرمودہ 16 نومبر 1934ء پس میری تمام سکیم اور میرے تمام جذبات کے چاروں کونے اور اس کی بنیادیں اُن نشانات پر ہیں جن کو شریعت نے قائم کیا اور جن کو سلسلہ احمدیہ نے دنیا پر ظاہر کیا اور میری سکیم کا ایک بار یک ذرہ بھی اُن بنیادوں سے باہر نہیں جن کو شریعت اسلام اور سلسلہ احمدیہ نے قائم کیا ہے۔“ " مجھ سے بہت سے لوگوں نے وعدے کئے ہیں کہ وہ اپنی جانیں اور اپنے اموال سلسلہ کے لئے فدا کرنے کو تیار ہیں۔اس قربانی کا وعدہ کرنے والی بہت سی جماعتیں ہیں اور بہت سے جماعتوں کے افراد ہیں۔پھر مردوں کے علاوہ عورتوں نے بھی اپنے آپ کو اس قربانی کے لئے پیش کیا ہے اگر سب کو ملا لیا جائے تو ہزاروں کی تعداد ہو جاتی ہے اور میں یقیناً دل میں خوشی محسوس کرتا ہوں کہ ہماری جماعت میں اللہ تعالیٰ نے قربانی کی ایسی روح پھونک دی ہے کہ وہ دین کے لئے ہر قسم کی تکلیف برداشت کرنے کے لئے تیار ہے اور ہر اُس آواز پر لبیک کہنے کو آمادہ جو خدا اور اُس کے رسول یا اس کے نائبوں کی طرف سے بلند ہو۔پس یہ نہایت خوشی کی بات ہے مگر چونکہ یہ وعدے پیش از وقت ہیں اور چونکہ وہ سکیم میں نے ابھی بیان نہیں کی جس کے بیان کرنے کا ارادہ ہے اس لئے میں پورے طور پر خوش نہیں کیونکہ ممکن ہے لوگوں نے قربانی کا صحیح اندازہ نہ کیا ہو اور جب قربانی کا حقیقی مطالبہ اُن کے سامنے رکھا جائے تو اُن میں بعض عذرات پیش کرنے لگ جائیں۔میرا اپنا اندازہ یہ ہے کہ لوگ بڑی لیکن وقتی قربانیوں کے لئے تو فوراً تیار ہو جاتے ہیں لیکن اگر اُن سے مسلسل چھوٹی قربانیوں کا مطالبہ کیا جائے مثلاً اُن سے دس دس منٹ روز کی مسلسل ایک لمبے عرصہ تک قربانی طلب کی جائے تو وہ چند دنوں کے بعد ہی رہ جائیں گے، اگر حکم دیا جائے کہ جاؤ اور لڑ کر مر جاؤ تو میں سمجھتا ہوں سو میں سے ایسے اخلاص رکھنے والے جیسا کہ ہماری جماعت کے افراد میں ہے، نوے لڑ کر مر جانے کے لئے تیار ہو جائیں گے لیکن اگر ایک سو سے کہا جائے کہ پیدل چلتے ہوئے بنگال پہنچ جاؤ تو سو میں سے پچاس معذرتیں کرنی شروع کر دیں گے کوئی کہے گا میری بیوی بیمار ہے، کوئی کہے گا میرے بچے بیمار ہیں، کوئی کہے گا میں چل نہیں سکتا۔یہ سو میں سے پچاس کا اندازہ میں نے 13