تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 176
خطبہ جمعہ فرمود : 15 نومبر 1935ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول اعلان کر رہے ہیں کہ احمدی مباہلہ سے ڈر گئے۔حالانکہ میں نے پہلے ہی قسم کھا لی تھی اور کیا ڈرنے والا پہلے ہی قسم کھا لیا کرتا ہے؟ جو الزام وہ لگاتے ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے اور ان کے مطابق الفاظ میں میں نے قسم شائع کر دی ہے تا کوئی یہ نہ کہ سکے کہ مباہلہ سے ڈر گئے ہیں۔اسی طرح اگر وہ یقین رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آپ کو نعوذ بالله من ذالک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل سمجھتے تھے بلکہ آپ پر ایمان نہ رکھتے تھے اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی عظمت آپ کے دل میں نہ تھی اور آپ چاہتے تھے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی نعوذ بـالـلـه مـن ذالک اینٹ سے اینٹ بج جائے (نصیب دشمناں) اور یہ کہ جماعت احمدیہ کا بھی یہی عقیدہ ہے تو کیوں احرار کے لیڈروں نے میرے الفاظ کے مترادف الفاظ میں بالمقابل قسم شائع نہیں کر دی ؟ اگر وہ بھی قسم کھا لیتے تو لوگوں کو پتہ چل جاتا کہ وہ بھی مباہلہ کے لئے تیار ہیں یا پھر میرے پیش کردہ شرائط ہی شائع کر دیتے اور لکھ دیتے کہ ہمیں یہ منظور ہیں۔جب میں نے ان کی اس چالا کی کی وضاحت کی اور بتایا کہ میری طرف سے کیا شرائط تھے تو ان کی طرف سے کہا گیا کہ یہ نئے شرائط ہیں جس سے معلوم ہوا کہ شرائط کے متعلق ابھی جھگڑے کا امکان تھا۔اگر کوئی امکان نہ تھا تو اب وہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ یہ نئے شرائط ہیں؟ جب مجھ پر چھوڑ دیا تھا تو چاہئے تھا کہ جو میں کہتا اسے مان لیتے اور اگر ابھی ان کے لئے بولنا باقی تھا تو معلوم ہوا کہ ابھی شرائط طے نہیں ہوئی تھیں۔پس اول تو انہیں قادیان میں آنا نہیں چاہئے تھا اگر نیت مباہلہ کی ہوتی تو جیسا کہ میں نے کہا تھا وہ لا ہور یا گورداسپور میں کرتے۔ان کی غرض لڑائی اور فساد کرنا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ شائد اس طرح ان کا کام بن جائے لیکن دین کے لئے جو لڑائی ہو اس سے مومن کبھی نہیں ڈرتا۔اگر فساد ہو تو زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا کہ کوئی مرجائے گا یا کسی اور رنگ میں نقصان پہنچ جائے گا لیکن کیا مومن بھی کبھی موت سے ڈرسکتا ہے؟ مومن کا فرض ہے کہ جہاں تک ممکن ہو فساد اور لڑائی سے بچے لیکن اگر خدا کی مشیت ایسا موقع لے ہی آئے تو مومن کبھی ڈرا نہیں کرتا۔خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ دشمن کو نہ بلا ؤ اس لئے وہ کوشش کرتا ہے کہ اسے دور رکھے لیکن اگر لڑائی ہو ہی جائے اور کوئی آدمی مر بھی جائے تو یہ ہمارے لئے کسی گھبراہٹ کا موجب نہیں بلکہ ثواب کا موجب ہوگا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی ہمیشہ یہ نیت ہوتی تھی کہ لڑائی نہ ہو لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ڈرتے تھے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ (الانفال: 7) 176