تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 175

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 15 نومبر 1935ء تحریک جدید کے دوسرے سال کیلئے جماعت احمدیہ سے اہم مطالبات خطبہ جمعہ فرمودہ 15 نومبر 1935ء يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِي سَبِيلِ اللهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ سے آخر تک تلاوت کرنے کے بعد فرمایا: ( سورة التوبة: 38) پیشتر اس کے کہ میں آج کے خطبہ کا مضمون شروع کروں میں چند مختصر ہدایات اس امر کے متعلق دینا چاہتا ہوں کہ احرار کی طرف سے مباہلہ کا بہانہ بنا کر قادیان میں کانفرنس منعقد کرنے کی جو تجویزیں ہو رہی ہیں بلکہ جو اطلاعات ہمیں پہنچی ہیں ان کے مطابق یہاں فساد پھیلانے کی جو تجویزیں ہو رہی ہیں ان کے بارہ میں جماعت کو بعض احتیاطوں کی ضرورت ہے۔میں نے بتایا ہے کہ وہ مباہلہ کا بہانہ بنا کر یہاں کا نفرنس کرنا چاہتے ہیں اور یہ بات ایسی روشن اور بین ہے کہ سوائے ایسے شخص کے کہ جو عمداً آنکھوں کو بند کر لے اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ہمیں متفرق مقامات سے ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں بلکہ ایک احمدی کا بیان بھی اخبار میں شائع ہوا ہے جس نے مولوی عطاء اللہ صاحب اور دوسرے احراری لیڈروں کے ساتھ ریل میں سفر کیا ، ان کو اس کے احمدی ہونے کا علم نہ تھا، اس نے سوال کیا کہ کیا مباہلہ کی شرائط طے ہو گئی ہیں؟ تو اسے جواب دیا گیا کہ بے شرائط ہی مباہلہ ہو گا۔پھر اس نے پوچھا کہ وقت مقرر ہو گیا ہے؟ تو مولوی صاحب نے کہا کہ بے وقت ہی ہوگا اور سارا دن ہوگا۔اسی طرح ہوشیار پور میں ایک عرس ہوتا ہے جس پر بڑا اجتماع ہوتا ہے۔اس موقع پر بھی ان کے بعض لیڈ روہاں گئے تھے ، انہوں نے وہاں جو تقریریں کیں ان میں بھی یہی بات کہی گئی کہ بے شرائط مباہلہ ہوگا بلکہ کسی کے دریافت کرنے پر کہ کیا شرائط طے ہو گئی ہیں؟ اسے جواب دیا گیا کہ شرائط کی ضرورت ہی کیا ہے؟ آخر ہم نے وہاں جلسہ بھی کرنا تھا یا نہیں؟ تو ان لوگوں کے یہاں آنے کی غرض کا نفرنس کرنا اور فساد پھیلانا ہی ہے ورنہ اگر انہیں اللہ تعالیٰ پر اتنا یقین ہوتا کہ سمجھتے ہم سچے ہیں اور مباہلہ کر سکتے ہیں تو جس طرح میں نے قسم کھا کر مباہلہ کر ہی دیا ہے یہ لوگ بھی اسی طرح کیوں نہ کر دیتے ؟ وہ اخباروں میں 175