تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 177
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول۔۔۔۔خطبہ جمعہ فرمود و 15 نومبر 1935ء یعنی لڑائی کے لئے جانا انہیں موت معلوم ہوتا تھا۔گویا انہیں لڑائی اتنی بری لگتی تھی کہ وہ کبھی نہیں چاہتے تھے کہ لڑائی ہومگر جب لڑائی ہوئی تو وہی صحابہ جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے ان کی حالت بالکل بدل جاتی تھی۔بدر کے موقع پر جب کفار اور مسلمان آمنے سامنے ہوئے تو مکہ والوں نے ایک شخص کو بھیجا کہ جا کر اندازہ لگاؤ، مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے؟ وہ گیا اور آکر کہا کہ مسلمانوں کی تعداد تین سوا تین سو ہے اور سامان بھی کچھ نہیں اور اس کا یہ اندازہ صحیح تھا کیونکہ مسلمان صرف تین سو تیرہ تھے مگر اس نے کہا کہ باوجود اس کے میں تمہیں یہی مشورہ دیتا ہوں کہ لڑائی مت کرو کیونکہ بے شک ان کی تعداد کم ہے مگر میں نے ان کے چہروں کی طرف دیکھا تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ گھوڑوں اور اونٹوں پر آدمی نہیں بلکہ موتیں سوار ہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک یہ عزم کئے ہوئے ہے کہ یا مار دے گا یا مر جائے گا۔تو ان کی ایک طرف تو یہ حالت تھی کہ لڑائی کیلئے جانا ان کے لئے موت تھا مگر جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجبور کیا گیا کہ جاؤ تو وہ اس موت کو بالکل حقیر سمجھنے لگ گئے بلکہ اسے ایک نعمت خیال کرنے لگ گئے۔پس ہم بھی لڑائی سے احتراز کرتے ہیں اور ہماری کوشش یہی ہے کہ لڑائی نہ ہو لیکن اس کی وجہ یہ نہیں کہ ہم ڈرتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا امتحان کرنا نہیں چاہتے۔وہ ہمارا آقا اور مالک ہے اس لئے ہم اس کے سامنے ادب کے مقام پر کھڑے ہیں مگر جب وہ خود ایسے حالات پیدا کر دے جو مومن سے قربانی کا مطالبہ کرتے ہوں تو مومن سے زیادہ دلیر کوئی نہیں ہوتا اور دنیا کے تمام مصائب اسے ایسے حقیر نظر آتے ہیں کہ وہ انہیں پر پشہ کے برابر بھی وقعت نہیں دیتا۔بہر حال اپنے نقطۂ نگاہ سے احرار سمجھتے ہیں کہ یہاں آکر فساد کر دینا ان کے لئے بڑی کامیابی ہے اور ایسی صورت میں جماعت کے لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ انتظام کریں۔نیشنل لیگ انتظام کر بھی رہی ہے مگر میں بھی چاہتا ہوں کہ چند نصائح کروں جو جماعت کے پیش نظر رہنی چاہئیں۔میں نے پہلے بھی کہا ہے اور آج پھر بھی کہنا چاہتا ہوں کہ جماعت کے دوستوں کو یہ امر مد نظر رکھنا چاہئے کہ جیسا کہ میں پہلے بھی کئی بار ظاہر کر چکا ہوں بعض سرکاری حکام اور احرار کا بھی منشا یہ ہے کہ ہمیں قانون شکن بنا ئیں مگر ہمیں کبھی بھی قانون شکنی نہ کرنی چاہئے۔اسلام نے ایسے طریق بتائے ہیں کہ بغیر قانون شکنی کے ہم اپنے حقوق لے سکتے ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر قرآن کریم کے بتائے ہوئے گروں پر عمل کیا جائے تو قانون کے کامل احترام کے باوجود ان شرور کا جو خواہ حکومت کی طرف سے ہوں اور خواہ رعایا کی طرف سے ہم ازالہ کر سکتے ہیں اور اپنے لئے ترقی کے راستے 177