تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 137
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمود ه 11 جنوری 1935ء جھگڑا ہو جائے تو زمیندار اسے دیکھ کر جھٹ کہنے لگ جاتا ہے کہ پٹھان ہے جانے بھی دو کہیں خون نہ کر دے۔حالانکہ ہمارے بعض پنجابی ایسے ایسے مضبوط ہوتے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی پٹھان کو پکڑ لے تو اسے ملنے نہ دے مگر اس کا رعب ہی ایسا ہوتا ہے کہ پنجابی کہنے لگ جاتے ہیں خان صاحب آگئے اور ان کی ساری شیخیاں کا فور ہو جاتی ہیں۔پس جو قوم مرنے کیلئے تیار ہو اس سے ہر قوم ڈرا کرتی ہے اسی طرح ہم بھی اگر اپنی جانیں دینے پر آمادہ ہو جائیں تو لوگ ہم سے بھی ڈرنے لگ جائیں گے مگر وہ ڈر خوف والا نہیں ہوگا بلکہ محبت والا ہوگا۔ہم عمارتوں کو اس لئے نہیں گرائیں گے کہ ان کے باغوں کو ویران اور ان کے محلات کو کھنڈر کر دیں بلکہ ہم پاخانوں کو گرا کر انہیں قلعے بنائیں گے اسی طرح کاغذوں کو جلائیں گے مگر اس طرح نہیں کہ دیا سلائی سے انہیں جلا دیا بلکہ ان کی گندی عبارتیں مٹاکر ان پر پاکیزہ عبارتیں لکھیں گے۔پس ہمارے اصول تخریبی نہیں بلکہ تعمیری ہوں گے کیونکہ جو تو میں تباہی کے اصول دنیا میں رائج کیا کرتی ہیں وہ خود بھی تباہ ہوتی ہیں اور ان کے اصول بھی ناکارہ ہو جاتے ہیں۔محبت ہی ہے جو آخر دنیا کو فتح کرتی اور عالمگیر مواخات کا سلسلہ قائم کر دیتی ہے۔ہمارے نو جوانوں میں سے بعض نے اپنی زندگیاں وقف کی ہوئی ہیں اور میں آج کل ان کا امتحان بھی لے رہا ہوں اس امتحان لینے سے جہاں مجھے یہ معلوم ہوا کہ ان نوجوانوں میں اخلاص اور جرات ہے وہاں مجھے یہ بات بھی نہایت افسوس اور رنج سے معلوم ہوئی کہ ان کی تربیت اس رنگ میں نہیں ہوئی جس رنگ میں اسلام لوگوں کی تربیت کرنا چاہتا ہے۔اسلام مومن کے دماغ میں ایک وسعت پیدا کر دیتا ہے۔اتنی بڑی وسعت کہ ہر مومن اپنے آپ کو دنیا کا بادشاہ سمجھتا ہے وہ کسی ایک صوبہ یا ایک ملک یا ایک براعظم کا نہیں بلکہ ساری دنیا کا اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتا ہے اور دنیا کے ہر شعبے کی طرف اپنی نگاہ دوڑاتا اور ہر شعبے سے اپنے لئے فوائد اخذ کرتا ہے اسی لئے صوفیا کرام نے انسان کو عالم صغیر کہا ہے اور گو ظاہری الفاظ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ہر انسان کو عالم صغیر کہا مگر در حقیقت ان کی انسان سے مراد انسان کامل ہے۔جس طرح ایک انچ کا شیشہ بھی اگر ایک وسیع باغ کے سامنے رکھ دیا جائے تو اس باغ کے تمام پودے نہایت چھوٹے پیمانہ پر شیشے میں نمایاں ہو جاتے ہیں اور جس طرح سبزہ زار کو ظاہری طور پر دیکھ کر انسان لطف اندوز ہوتا ہے اسی طرح شیشہ میں دیکھ کر لطف اٹھا سکتا ہے بالکل اسی طرح ایک مومن کی نگاہ تمام دنیا پر وسیع ہوتی ہے اس کا دماغ روشن، اس کی عقل تیز ، اس کے حوصلے بلند ، اس کی امنگیں شاندار اور اس کی خیال آرائیاں بہت اونچی ہوتی ہیں مگر مجھے نہایت افسوس سے معلوم ہوا کہ 137