تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 138

خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جنوری 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول جامعہ احمدیہ میں جو طلبا تعلیم پاتے ہیں انہیں کنوؤں کے مینڈکوں کی طرح رکھا گیا ہے، ان میں کوئی وسعت خیال نہ تھی ، ان میں کوئی شاندار امنگیں نہ تھیں اور ان میں کوئی روشن دماغی نہ تھی۔میں نے کرید کرید کر ان کے دماغ میں داخل ہونا چاہا مگر مجھے چاروں طرف سے ان کے دماغ کا راستہ بند نظر آیا اور مجھے معلوم ہوا کہ سوائے اس کے کہ انہیں کہا جاتا ہے وفات مسیح کی یہ آیتیں رٹ لو یا نبوت کے مسئلہ کی یہ دلیلیں یاد کر لو، انہیں کوئی اور بات نہیں سکھائی جاتی جس کے معنے یہ ہیں کہ ہمارا کام اتنا ہی ہے کہ کچھ لوگ خرابی کریں اور ہم اسے مٹادیا کریں۔گویا خدا کے پاس نعوذ باللہ تعمیری کام کوئی نہیں۔اگر ہے تو تحر یہی کام ہی ہے اور پھر اس کے معنے یہ ہیں کہ اگر چند مولوی یہ خیال نہ گھڑ لیتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے یا چند مولوی یہ خیال نہ پھیلا دیتے کہ مسیح ناصری آسمان پر زندہ موجود ہیں تو نہ مسیح موعود کی ضرورت تھی اور نہ سلسلہ احمدیہ کے قیام کی۔گویا ہماری جماعت صرف چند مولویوں کے ڈھکوسلوں کو دور کرنے کے لئے دنیا میں قائم ہوئی ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا اس سے زیادہ ذلیل، اس سے زیادہ ادنی ، اس سے زیادہ رسوا کن اور اس سے زیادہ کمینہ خیال بھی دنیا میں کوئی اور ہو سکتا ہے؟ پس یہ عالم ہیں جنہیں جامعہ تیار کر رہا ہے اور یہ مبلغ ہیں جنہیں احمدیت کی تبلیغ کے لئے تعلیم دی جارہی ہے؟ حالانکہ یہ ویسے ہی مسجد کے ملنٹے ہیں جن کو مٹانے کیلئے یہ سلسلہ قائم ہوا ہے۔میں نے عام طور پر لڑکوں سے سوال کر کے دیکھا اور مجھے معلوم ہوا کہ کثرت سے طالب علم ایسے ہیں جنہوں نے کبھی اخبار کو پڑھا ہی نہیں۔کیا دنیا میں کبھی کوئی ڈاکٹر کام کر سکتا ہے جسے معلوم ہی نہیں کہ مرضیں کون کون سی ہوتی ہیں؟ میں نے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا ہے۔آپ علیہ السلام را توں کو بھی کام کرتے اور دن کو بھی کام کرتے اور اخبارات کا باقاعدہ مطالعہ رکھتے۔اس تحریک کے دوران میں خود اکتوبر سے لے کر آج تک 12 بجے سے پہلے کبھی نہیں سویا اور اخبار کا مطالعہ کرنا بھی نہیں چھوڑا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تو میں نے اس طرح دیکھا ہے کہ جب ہم سوتے اس وقت بھی آپ جاگ رہے ہوتے اور جب ہم جاگتے تو اس وقت بھی آپ کام کر رہے ہوتے۔جب انہیں پتہ ہی نہیں کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے تو وہ دنیا میں کیا کام کر سکتے ہیں؟ میں نے جس سے بھی سوال کیا، معلوم ہوا کہ اس نے اخبار کبھی نہیں پڑھا اور جب بھی میں نے ان سے امنگ پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم تبلیغ کریں گے اور جب سوال کیا کہ کس طرح تبلیغ کرو گے تو یہ جواب دیا کہ جس طرح بھی ہوگا تبلیغ کریں گے۔یہ الفاظ کہنے والوں کی ہمت تو بتاتے ہیں مگر عقل تو نہیں بتاتے۔الفاظ سے یہ تو ظاہر ہوتا ہے کہ کہنے والا ہمت رکھتا ہے مگر یہ بھی ظاہر ہو جاتا ہے کہ 138