تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 136

خطبہ جمعہ فرموده 11 جنوری 1935ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول پس میں جماعت کے دوستوں سے پھر وہی مطالبہ کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ تم میں سے ہر فرد اس غرض کے لئے اپنے آپ کو پیش کرے گا یہاں تک کہ لوگ تمہیں مجنوں کہنے لگ جائیں۔مجنون کی طاقت جس قدر بڑھ جاتی ہے وہ کسی پر مخفی نہیں۔یہاں ہی ایک استانی ہوا کرتی تھیں انہیں کبھی کبھی جنون کا دورہ ہو جاتا۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ درس دے رہے تھے کہ اسے دورہ ہو گیا اور کو ٹھے پر سے اس نے چھلانگ لگانی چاہی عورتوں نے شور مچایا تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے بھی اٹھ کر اسے پکڑ لیا۔یہ اس زمانہ کی بات ہے جب حضرت خلیفہ اول ابھی بیمار نہ ہوئے تھے آپ کا جسم خوب چوڑا چکلا اور مضبوط تھا، مجھے یاد ہے ایک دفعہ آپ نے بانہہ نکال کر کہا تھا کہ کوئی جوان ہوتو بانہہ پکڑ کر دیکھ لے مگر باوجود ایسی مضبوطی کے اور باوجود اس کے کہ پانچ سات اور عورتوں نے بھی اسے پکڑا ہوا تھا پھر بھی وہ عورت ہاتھ سے نکلی جاتی تھی تو جس وقت انسان دماغی حدوں کو توڑ دیتا ہے اس وقت اسے ایک غیر معمولی طاقت ملتی ہے چاہے جسمانی حدوں کو توڑنے کی وجہ سے حاصل ہو اور چاہے روحانی قیود کو توڑ دینے کی وجہ سے حاصل ہو۔جس طرح انسان کے دماغ کی جب کل بگڑ جاتی ہے تو اس کی طاقتیں وسیع ہو جاتی ہیں اسی طرح خدا کی طرف سے جب آواز بلند ہو اور انسان دیوانہ وار کہے کہ آتا ہوں ، آتا ہوں ! تو پھر کوئی طاقت اور قوت اسے روک نہیں سکتی یہی روحانی دیوانے ہوتے ہیں جو دنیا میں کوئی کام کیا کرتے ہیں ، یہی روحانی دیوانے ہوتے ہیں جو دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر دیا کرتے ہیں ایسا انقلاب جو اس کے تمدن میں تبدیلی پیدا کر ، دیتا ہے، اس کی سیاست میں تبدیلی پیدا کر دیتا ہے، اس کی تعلیمی حالت میں تبدیلی پیدا کر دیتا ہے اور اس کے اخلاق میں تبدیلی پیدا کر دیتا ہے ورنہ وہ چند نقال جو یورپین مدرسوں میں پڑھنے کے بعد مغربی اصطلاحیں رٹنے لگ جاتے ہیں یا چند زمیندار جو صبح سے شام تک ہل چلا کر گھروں میں آ بیٹھتے ہیں انہوں نے دنیا میں کونسی تبدیلی کر دی؟ یا کونسی وہ تبدیلی کر سکتے ہیں؟ اگر چہ اپنی ساری کمائی سامنے لا کر رکھ دیں۔دنیا میں تبدیلی کرنے کیلئے پہلے اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، پہلے اپنے اندر وہ چیز پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو دنیا میں زندگی کی روح پھونکنے والی ہو۔پس میں اپنی جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس جسمانی قربانی کی اہمیت محسوس کریں اور یہ پہلا قدم ہے جس کے اٹھانے کا ان سے مطالبہ کیا گیا ہے ورنہ اصل قدم تو یہی ہے کہ ہر وقت ان کے ذہن میں یہ بات رہے کہ ان کی جان ان کی نہیں بلکہ خدا کے قائم کردہ سلسلہ کی ہے اور یہ کہ وہ بزدل نہیں بلکہ بہادر ہیں۔جو لوگ بہادر ہوں ان سے لوگ ہمیشہ ڈرا کرتے ہیں۔ہمارے صوبہ میں کبھی کوئی پٹھان آجائے اور اس کا کسی سے 136