تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 108
اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 14 دسمبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول لئے یہ کافی جواب ہے کہ جب خدا کے دین کے لئے قربانی کا سوال پیش ہوتا ہے تو یہی لوگ سب سے زیادہ اعلیٰ نمونہ دکھاتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ باہر سے تکالیف کو دیکھ کر یہاں بعض منافق بھی آجاتے ہیں۔ان کے علاوہ یہاں چونکہ احمد یہ جماعت کی کثرت کی وجہ سے کچھ عرصہ پہلے بعض قسم کے مظالم سے لوگ بچے رہتے تھے اس وجہ سے بعض گھروں کی نسلوں میں خرابی پیدا ہو کر بعض جوانوں میں نفاق پیدا ہو گیا تھا مگر یہ لوگ بہت کم تعداد میں ہیں ان کے نمایاں نظر آنے کی وجہ یہ ہے کہ جیسے سفید رنگ کے کپڑے پر سیاہی کا ایک داغ بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے مگر کالی چیز پر اگر توے کی ساری سیاہی مل دو تو بھی معلوم نہ ہوگی اسی طرح یہاں کے منافق بالکل اسی طرح نظر آتے ہیں جس طرح سفید کپڑے پر سیاہی کا دھبہ۔وہ اسی لئے نمایاں ہیں کہ یہاں سفیدی زیادہ ہے۔باہر کی جماعتوں کو یہاں کی جماعت پر ایک فضیلت ہے کہ وہ ہر وقت دکھوں میں رہتی ہیں اور اس وجہ سے وہاں منافق نہیں ٹھہر سکتے اور باہر کے دوست جب قادیان آتے ہیں تو یہاں کے منافق انہیں نمایاں نظر آتے ہیں جو ہر وقت اعتراض کرتے رہتے اور باہر سے آنے والوں کو غلط فہمیوں میں مبتلا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔باہر کی جماعتوں میں سے بھی بعض نے اخلاص کا عمدہ نمونہ دکھایا ہے اور بعض نے تو اتنی ہوشیاری سے کام لیا ہے کہ حیرانی ہوتی ہے۔مثلاً لاہور چھاؤنی کی جماعت کا وعدہ قادیان کی جماعت کے وعدہ کے ساتھ ہی پہنچ گیا تھا۔کوئی دوست یہاں سے خطبہ سن کر گیا اور اس سے سن کر دوست فوراً ا کٹھے ہوئے اور تحریک میں شامل ہو گئے اور جس وقت مجھے قادیان والوں کی رپورٹ ملی اسی وقت لاہور چھاؤنی کی مل گئی مگر بعض جماعتیں لاہور چھاؤنی کے پہلو میں اور اس کے رستہ میں ایسی ہیں جنہوں نے تاحال توجہ نہیں کی۔یہ سستی یا چستی کا سوال ہے خبر کے جلد یا بدیر پہنچنے کا نہیں۔سرسری اندازہ یہ ہے کہ چودہ دن کے اندر اندر پندرہ ہزار کے قریب وعدے اور نقد روپیہ آچکا ہے جس میں سے چار ہزار کے قریب نقد ہے اور ابھی جماعت کا بہت سا حصہ خصوصاً وہ لوگ جن کی آمدنیاں زیادہ ہیں خموش ہے یا اس انتظار میں ہے کہ جماعت کے ساتھ وعدہ بھیجوائیں گے لیکن دوسری طرف متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے یا غربا میں سے بعض ایسے ہیں کہ جن کے پاس پیسہ نہیں تھا اور انہوں نے چیزیں پیش کر دیں اور کہا کہ ہمارا اثاثہ لے لیا جائے۔اگر چہ ہم نے لیا نہیں کیونکہ میرے اصل مخاطب امرا تھے مگر اس سے اتنا پتہ تو لگ سکتا ہے کہ جماعت میں ایسے مخلصین بھی ہیں جو اپنی ہر چیز قربان کر دینے کے لئے تیار ہیں۔اسی سلسلہ میں مجھے یہ بھی شکایت پہنچی ہے کہ بعض جماعتوں کے عہدیدار لوگوں کو یہ کہہ کر خاموش کر رہے ہیں کہ جلدی نہ کرو پہلے غور کر لو! گویا ان کے غور کا زمانہ ابھی باقی ہے! ڈیڑھ دو مہینہ سے میں خطبات پڑھ رہا ہوں اور تمام حالات وضاحت سے 108