تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 109

تحریک جدید - ایک ابھی تحریک۔۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 دسمبر 1934ء پیش کر چکا ہوں لیکن ابھی ان کے غور کا موقع ہی نہیں آیا؟ یہ مشورہ کوئی نیک مشورہ نہیں یا سادگی پر دلالت کو کرتا ہے یا شاید بعض خود قربانی سے ڈرتے ہوں اور دوسروں کو بھی اس سے روکنا چاہتے ہوں کہ ان کی ستی اور غفلت پر پردہ پڑا رہے۔کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں جہاد کے موقع پر پہلے غور کیا جاتا تھا اور یہ کہا جاتا کہ جلدی نہ کرو غور کر لو؟ قرآن کریم میں تو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ : فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَتِ (البقرة:148) یعنی دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اور جلدی کی کوشش کرو! مگر یہ کہتے ہیں کہ ٹھہر جاؤ، غور کر لو! حالانکہ غور کیلئے پہلے ہی کافی عرصہ مل چکا ہے۔ایسے عہدیداروں کو یا د رکھنا چاہئے کہ ان کی اس تلقین سے جو لوگ سبقت کے ثواب سے محروم رہیں گے ان کا عذاب بھی انہی کی گردنوں پر ہو گا لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص ثواب سے محروم رہتا ہے تو اپنے کسی فعل کے نتیجہ میں رہتا ہے۔یہ نظام کا کوئی سوال نہیں تھا کہ عہدہ داروں کے ماتحت رہ کر ہی کرنا ضروری تھا ہر شخص اپنے طور پر بھی رقم بھیج سکتا یا اپنا نام لکھوا سکتا تھا اسے کس نے روکا تھا کہ علیحدہ طور پر حصہ لیتا؟ اور جو لوگ کسی ایسی وجہ سے ثواب سے محروم ہیں ان کی اپنی بھی غلطی ہے۔جماعتی لحاظ سے بعض مقامات سے مجھے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ جماعتیں اپنی لسٹیں اکٹھی بھجوائیں گی۔گو یاد میر اس وجہ سے ہے ان جماعتوں پر یا ان کے افراد پر کوئی الزام نہیں مگر ان میں سے بھی بعض مخلصین ایسے ہیں جنہوں نے اس دیر کو بھی برداشت نہیں کیا اور رقمیں بھیج دی ہیں اور جماعت کا انتظار بھی نہیں کیا۔یہ گو معمولی باتیں ہیں مگر روحانی دنیا میں یہی چیز میں ثواب بڑھا دینے کا موجب ہو جایا کرتی ہیں۔ایسی معمولی باتیں بظاہر نفسی والی ہوتی ہیں مگر روحانی دنیا میں وہ بہت قیمتی ہوتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک دفعہ تقریر فرما رہے تھے بعض لوگ کھڑے تھے آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ ! حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ گلی میں جلسہ میں شامل ہونے کے لئے آرہے تھے آپ نے یہ آواز سنی تو وہیں بیٹھ گئے اور گھسٹ گھسٹ کر چلنا شروع کر دیا۔اب بظاہر یہ کس قدر مضحکہ خیز بات ہے کہ ایک شخص اکڑوں بیٹھا ہوا چلتا جا رہا ہے ایک شخص نے انہیں اس حالت میں دیکھا اور پوچھا کیا کر رہے ہو؟ آپ نے کہا میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بیٹھ جانے کے متعلق سنا اور اس خیال سے کہ کیا معلوم وہاں پہنچنے تک جان ہی نکل جائے اور اس کی تعمیل کا موقع ہی نہ ملے ، یہیں بیٹھ گیا۔اب جس شخص نے انہیں اس حالت میں دیکھا وہ تو دل میں ہنستا ہوگا کہ یہ شخص کتنا نادان ہے مگر اسے کیا معلوم کہ یہی حرکت کس قدر خدا تعالیٰ کے حضور مقبول تھی۔کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں دوسرے جلد بازی سمجھتے 109