خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 49
49 اور اس کے ساتھ بہت سے انعامات وابستہ ہیں۔ابھی تک جنہوں نے وصیت نہ کی ہو وہ کر کے اپنے ایمان کے کامل ہونے کا ثبوت دیں۔کیونکہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ جو شخص وصیت نہیں کرتا مجھے اس کے ایمان میں شبہ ہے۔پس وصیت معیار ہے ایمان کے کامل ہونے کا۔مگر دسویں حصہ کی وصیت اقل ترین معیار ہے۔یعنی یہ تھوڑے سے تھوڑا حصہ ہے جو وصیت میں دیا جا سکتا ہے۔مگر مومن کو یہ نہیں چاہئے کہ چھوٹے سے چھوٹے درجہ کا مومن بنے کی کوشش کرے بلکہ بڑے سے بڑے درجہ کا مومن بننا چاہئے۔یہ درست ہے کہ رشتہ داروں اور لواحقین کو مد نظر رکھ کر کہا گیا ہے کہ 1/3 حصہ سے زیادہ وصیت میں نہ دے۔لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ دسویں حصہ سے زیادہ وصیت نہ دے۔مگر دیکھا گیا ہے کہ اکثر دوست 1/10 حصہ کرنے پر کفایت کرتے ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاید ان کا خیال ہو کہ وصیت کا مفہوم دسویں حصہ کی وصیت کرنا ہی ہے حالانکہ یہ ادنی مقدار بیان کی گئی ہے اور مومن کے لئے یہی بات مناسب ہے کہ جس قدر زیادہ دے سکے دے۔(خطبات محمود جلد 10 ص167) حضور نے جلسہ سالانہ 1926ء پر 28 دسمبر کے خطاب میں فرمایا: میں دوستوں کو وصیت کی طرف خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں۔وصیت ہماری جماعت کے لئے نہایت اہم اور اصل چیز ہے۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے جو شخص وصیت نہیں کرتا اس کے ایمان میں نفاق کا حصہ ہے۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں۔وصیت کی طرف خاص توجہ کریں۔جماعت کا کثیر حصہ ابھی تک وصیتوں سے خالی ہے۔اس وقت ہماری جماعت کی ترقی کے لئے مالی قربانیوں کی بہت ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ کا منشاء ہے کہ ہم مالی قربانیوں میں پورا حصہ لیں۔(انوار العلوم جلد 9 صفحہ 443 ) حضور نے 26 اگست 1932ء کو فرمایا " تیسر ا فرض جس کی طرف میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں وہ وصیت کا مسئلہ ہے۔حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ وصیت ایمان کی آزمائش کا ذریعہ ہے اور وہ اس کے ذریعہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون سچا مومن ہے اور کون نہیں ہے۔ہماری جماعت اس وقت لاکھوں کی تعداد میں ہے مگر وصیت کرنے والے صرف دو تین ہزار ہیں۔حالانکہ وصیت ایسی چیز ہے جو یقینی طور پر خدا کا مقرب ہونا ظاہر کرتی ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ مومن ہی وصیت کرتا ہے لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ اگر کسی شخص میں کچھ کمزوریاں