خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 50
50 بھی پائی جاتی ہوں تو جب وہ وصیت کرے گا تو اللہ تعالیٰ اپنے اس وعدہ کے مطابق بہشتی مقبرہ میں صرف جنتی ہی مدفون ہوں گے ، اس کے اعمال کو درست کر دیتا ہے۔پس وصیت اصلاح نفس کا زبر دست ذریعہ ہے۔کیونکہ جو بھی وصیت کرے گا اگر وہ ایک وقت میں جنتی نہیں تو بھی وہ جنتی بنا دیا جائے گا اور اگر اعمال اس کے زیادہ خراب ہیں تو خدا اس کے نفاق کو ظاہر کر کے اسے وصیت سے الگ کر دے گا۔(خطبات محمود جلد 13 صفحہ 562 ) حضور نے 27 دسمبر 1942ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقعہ پر نظام نو کے عنوان سے ایک معرکہ الآراء خطاب فرمایا جس میں تحریک جدید اور نظام وصیت کے باہمی رابطے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ” خدا تعالیٰ نے میرے دل میں تحریک جدید کا القاء فرمایا تا کہ اس ذریعہ سے ابھی سے ایک مرکزی فنڈ قائم کیا جائے اور ایک مرکزی جائیداد پیدا کی جائے جس کے ذریعہ تبلیغ احمدیت کو وسیع کیا جائے۔پس تحریک جدید کیا ہے وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عقیدت کی یہ نیاز پیش کرنے کے لئے ہے کہ وصیت کے ذریعہ تو جس نظام کو دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے اس کے آنے میں ابھی دیر ہے اس لئے ہم تیرے حضور اس نظام کا ایک چھوٹا سا نقشہ تحریک جدید کے ذریعہ پیش کرتے ہیں تا کہ اس وقت تک کہ وصیت کا نظام مضبوط ہو اس ذریعہ سے جو مرکزی جائیداد پیدا ہو اس سے تبلیغ احمدیت کو وسیع کیا جائے اور تبلیغ سے وصیت کو وسیع کیا جائے۔پس جوں جوں تبلیغ ہوگی اور لوگ احمدی ہوں گے وصیت کا نظام وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جائے گا اور کثرت سے اموال جمع ہونے شروع ہو جائیں گے۔۔۔پس وصیت کے ذریعہ اس وقت جو اموال جمع ہورہے ہیں ان کی رفتار بیشک تیز نہیں مگر جب کثرت سے احمدیت پھیل گئی اور جوق در جوق لوگ ہمارے سلسلہ میں داخل ہو گئے اس وقت اموال خاص طور پر جمع ہونے شروع ہو جائیں گے اور قدرتی طور پر جائیدادوں کا ایک جتھا دوسری جائیدادوں کو کھینچنا شروع کر دے گا اور جوں جوں وصیت وسیع ہوگی نظام نو کا دن انشاء اللہ قریب سے قریب تر آجائے گا۔غرض تحریک جدید گو وصیت کے بعد آئی ہے مگر اس کے لئے پیشرو کی حیثیت میں ہے بطور ارہاص کے ہے ہر شخص جو تحریک جدید میں حصہ لیتا ہے وصیت کے نظام کو وسیع کرنے میں مدد دیتا ہے اور ہر شخص جو نظام وصیت کو وسیع کرتا ہے وہ نظام نو کی تعمیر میں مدددیتا ہے“۔پھر فرمایا: