خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 518
518 ہوتا ہے اور ماحول کا اثر ہوتا ہے اس میں تو نئے آنے والے سے رابطہ رہا اور بعد میں بھول گئے۔مربیان کا کام ہے کہ دعاؤں کے ساتھ ان کو سنبھالیں اور اپنے نوافل ان لوگوں کے لئے رکھ لیا کریں۔(ii) ''اگر مبلغین کا رویہ اچھا ہو ، اچھا نمونہ ہو اور رابطہ ہو تو بہت سے لوگ رہ جاتے ہیں۔الفضل 15 جولائی 2005ء) (iii) نومبائعین سے مسلسل رابطہ بہت ضروری ہے۔ان کا ریکارڈ ہر مربی کے پاس ہو کہ کتنے نومبائعین آپ کے حلقہ میں ہیں۔ان سے رابطہ کے لئے الگ ٹیم تیار کریں جو ان نو مبائعین کی تعلیم و تربیت کے لئے ہر جہت سے رابطہ رکھے۔میری خواہش ہے کہ 10 سال تک شامل ہونے والوں سے رابطہ ٹوٹنا نہیں چاہئے۔واقفین زندگی سے حضور انور کی توقعات ص 24) تحریک کے ثمرات حضور کی ان مسلسل تحریکات کے نتیجہ میں نو مبائعین سے رابطے زندہ کرنے کا سلسلہ ساری دنیا میں شروع ہو گیا ہے۔چنانچہ حضور نے جلسہ سالانہ برطانیہ 2007ء کے دوسرے دن 28 جولائی کو اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔دوران سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے تینتیس ایسے ممالک میں بھی جہاں ہمارے مبلغین نہیں تھے۔وہاں رابطے کمزور تھے، وفود بھجوا کر وہ رابطے زندہ کئے گئے اور تعلیمی تربیتی پروگرام بنائے گئے ، احباب کو منظم کیا گیا اور بعض ایسے ممالک میں مبلغین کا تقرر بھی عمل میں آیا ان میں سے ایک ملک ہنگری ہے، یہاں سے بھی جرمنی کے مبلغ حیدر علی صاحب اور عبد الغفار صاحب سیکرٹری تبلیغ وغیرہ گئے ، وقف عارضی کیا تو جہاں انہوں نے پرانے رابطے بحال کئے وہاں ان کی تربیت کا کام بھی کیا۔ہنگری میں دوسری جنگ عظیم سے قبل جماعت کے مبلغ ہوتے تھے مشن ہاؤس تھا، حاجی ایاز خان صاحب کا تقرر ہوا تھا تو اب دوبارہ حالات سازگار ہونے پر قریباً ستر سال کے بعد ہمارے ایک مبلغ کا وہاں تقرر ہوا ہے اور وہاں مقامی زبان وہ سیکھ رہے ہیں دوسرا ملک مالٹا ہے یہ بھی جرمنی سے ڈاکٹر عبد الغفار صاحب نے دورہ کیا تھا یہاں بھی ہمارا با قاعدہ مشن قائم ہے یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ ماہ جون میں ہمارے پہلے مبلغ پہنچ چکے ہیں۔