خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 28
28 مگر جلد ہی آپ کے خلیفہ المسیح بن جانے کی وجہ سے وہ انجمن اس رنگ میں قائم نہ رہ سکی مگر آپ کے دور خلافت میں مختلف انجمنیں ان مقاصد کو پورا کرتی رہیں۔دیا نند مت کھنڈن سبھا: دہلی اور اس کے ماحول میں آریہ سماج نے زبر دست فتنہ برپا کر رکھا تھا۔جماعت احمد یہ دہلی کے نامورممبر حضرت میر قاسم علی صاحب نے 1909 ء میں ملازمت چھوڑ کر ان دشمنان حق کے تحریری و تقریری دفاع کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی اور دہلی میں دیا نند مت کھنڈن سبھا کے نام سے ایک انجمن قائم کی۔حضرت خلیفہ اول نے اپنی جیب خاص سے اس انجمن کے لئے ایک سو روپیہ عطا فرمایا۔اس انجمن نے آریوں کی زہریلی کچلیاں توڑنے میں بڑا بھاری کام کیا اور مسلمانوں کے حوصلے بلند ہو الحكم 28 اکتوبر 1909ء ص 15 کالم 1) انجمن ارشاد 1909ء کے آخر پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محموداحمد صاحب نے انجمن ارشاد بنائی جس کا مقصد دشمنان حق کے اعتراضوں کا ابطال تھا۔( تاریخ احمدیت جلد 3 ص303) انجمن انصار الله: فروری 1911ء میں ہی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ایک رویا کی بناء پر حضرت خلیفہ امسیح الاول کی اجازت سے انجمن انصار اللہ کی بنیاد ڈالی۔حضور نے فرمایا میں بھی آپ کے انصار اللہ میں شامل ہوں۔( بدر 23 فروری ص 2۔9 مارچ 1911ءص8) اس انجمن کے ہر ممبر کا فرض تھا کہ حتی الوسع دعوت الی اللہ کے کام میں لگار ہے اور جب موقع ملے ( بدر 23 فروری 1911ءص2) اس میں اپنا وقت صرف کرے۔چنانچہ جولائی 1913 ء تک اس کے ممبروں کے ذریعہ دو تین سو آدمی سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور یہ سلسلہ اسی طرح بعد میں بھی جاری رہا۔انجمن نے جماعت میں داعیان الی اللہ کی ایک جمعیت تیار کر دی جس نے آئندہ چل کر جماعت احمدیہ کی ترقی و اشاعت میں بڑا بھاری حصہ لیا۔انجمن نے اپنے خرچ پر ایک ممبر چوہدری فتح محمد صاحب سیال کو انگلستان میں خواجہ کمال الدین صاحب کی مدد کے لئے بھجوایا۔الفضل 23 جولائی 1913ء ص 14) (الحکم جو بلی نمبر ص 77)