خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 411
411 میں ان میں دوستانہ اور قریبی تعلقات پیدا کرنے کی ایک راہ یہ ہے کہ ان کی آپس میں قلم دوستی ہو۔حضور نے فرمایا کہ اس سے احمدیوں کا علم بھی بڑھے گا۔ایک دوسرے سے مختلف علوم سیکھیں گے۔جماعت اور دنیا کے مختلف حالات اور واقعات سے آگاہ ہوں گے اور ایک بھائی چارہ کا ماحول پیدا ہوگا۔حضور نے اس منصو بہ کو اپنی نگرانی میں چلانے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :۔قلم دوستی کے ضمن میں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے ایسے آدمیوں کی تلاش ہے جو میری ہدایت کے مطابق کام کریں لیکن اس خطبہ کے ذریعہ غیر ملکوں میں اور خود اپنے ملک میں جہاں جہاں بھی میرا یہ پیغام پہنچے۔دوست رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کریں اور اپنے نام مجھے بھجوا دیں۔اصل منصوبہ یہیں سے بنے گا۔خطبات ناصر جلد 5 ص 270 تا 280) اتحاد بین المسلین کی تحریک 1967ء میں جب حضرت خلیفتہ المسیح الثالث اپنے پہلے سفر یورپ سے واپس تشریف لائے تو آپ نے 22 اگست کو کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا مسلمانوں کے سامنے اتحاد بین المسلمین کی تحریک پیش فرمائی تاکہ مسلمان متحد ہو کر غلبہ اسلام کی مہم میں حصہ لیں اور عالم اسلام کے خلاف کی گئی سازشوں کا مقابلہ کریں۔حضور کی اس پر یس کا نفرنس کی خبر دیتے ہوئے اخبار جنگ کراچی لکھتا ہے۔احمدیہ فرقہ کے سر براہ مرزا ناصر احمد نے تجویز پیش کی ہے کہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں کو سات سال کی مدت کے لئے یہ طے کر لینا چاہئے کہ وہ آپس کے اختلافات بھلا کر دنیا میں اسلام کی تبلیغ کے لئے سر توڑ کوشش کریں گے اور اس عبوری دور میں ایک دوسرے پر کسی قسم کی نکتہ چینی نہیں کریں گئے“۔(روز نامہ جنگ کراچی مورخہ 23 راگست 1967 ء ) اور اخبار تعمیر راولپنڈی نے لکھا:۔احمدیہ فرقہ کے سر براہ مرزا ناصر احمد نے دنیا کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بنی نوع انسان کی بہبود کے لئے متحد ہو کر کام کریں۔آج یہاں ایک پریس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں