خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 410 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 410

410 ہوئے۔بیرونی مشن اب تک کئی لاکھ فولڈرز دنیا کی مختلف زبانوں میں شائع کر کے تقسیم کر چکے ہیں۔مجلس ارشاد مرکزیہ کا قیام حضور نے جماعت احمدیہ کے نو جوانوں میں علمی تحقیقی ترقی کے لئے مجلس ارشاد مرکز یہ کا قیام فرمایا۔اس کا مقصد یہ تھا کہ اہل علم احباب تحقیقی مقالہ جات تیار کریں جن کے عنوانات حضور کی طرف سے تجویز ہوتے اور وہ مقالہ جات مجلس ارشاد کے اجلاسات میں پڑھ کر سنائے جائیں تاکہ نوجوان اور احمدی مقررین تحقیقی کام سے واقف ہوں۔ان سے استفادہ کرتے ہوئے خود بھی تحقیقی کام کریں۔حضور بنفس نفیس ان اجلاسوں کی صدارت فرماتے احباب جماعت کو کلمات طیبات سے مستفیض فرماتے۔حضور کے ارشاد کے تحت مرکز سلسلہ کے علاوہ پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں بھی مجلس ارشاد کے اجلاس منعقد کرنے کا انتظام کیا گیا۔چنانچہ کراچی، حیدر آباد، کوئٹہ، ملتان، ساہیوال، لاہور، فیصل آباد، سرگودھا، سیالکوٹ، راولپنڈی اور پشاور میں با قاعدہ مجلس ارشاد کا قیام عمل میں آیا اور اس کے اجلاس ہوتے رہے۔قلمی دوستی کی تحریک 19 /اکتوبر 1973ء کے خطبہ جمعہ میں حضور نے جماعت کے مابین قلمی دوستی کو رواج دینے کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا:۔ایک اور بات جس کا میں اس وقت اعلان کرنا چاہتا ہوں وہ قلم دوستی ہے اور یہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں سے ایک ہے جو ملک ملک کے درمیان قرب پیدا کرنے کے لئے ہیں۔قلم دوستی ایک منصوبے کے ماتحت عمل میں آنی چاہئے۔سارے ممالک میں رہنے والے احمدی قلمی دوستی کی مجالس میں شامل ہونے کے لئے اپنے نام پیش کریں۔پھر ایک منصوبہ کے ماتحت ان کی آپس میں دوستیاں قائم کی جائیں گی۔اس قسم کے قریبی اور دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کی مثال ایک شاندار رنگ میں اور شاندار پیمانے پر آنحضرت کی زندگی میں ملتی ہے۔اب چونکہ امت محمد یہ دنیا کے مختلف ملکوں میں پھیلی ہوئی ہے اس صور