خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 393 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 393

393 لجنہ کی کھیل کی کلب ہونی چاہئے۔حضور نے لجنات کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ تیار ہو جائیں میں جو مطالبہ کروں گا۔آپ کو اسے پورا کرنا ہوگا۔حضور نے فرمایا کہ ایک سال کے اندر اندر اگلے اجتماع سے قبل سارے پاکستان میں تحصیل لیول پر یعنی ایک تحصیل میں جس ایک جگہ سب سے بڑی لجنہ ہے وہاں پر یہ کلب قائم ہو جائے۔حضور نے فرمایا کہ اس مقصد کے لئے زمین کا حصول ایک مسئلہ ہے۔چنانچہ زمین نو سال کے لئے کرائے پر لے لیں اور نو سال کا کرایہ مجھ سے لے لیں۔ایک کچھی اونچی دیوار اس کے گرد بنادیں۔جھولا لگا ئیں یہ بڑی اچھی ورزش ہے۔چھوٹے بچوں کے لئے پھسلنے والی جگہیں بنا دیں۔اس طرح کی دیگر چیزیں بنا ئیں اس کے لئے چار کنال جگہ کافی ہے۔عورتوں کو جب وقت ملے وہ اس جگہ آئیں ورزش کریں، کھیلیں کودیں۔خدام بھی کلب بنا ئیں حضور نے لجنات کے علاوہ خدام کو بھی متوجہ کیا کہ وہ بھی ایک سال کے اندر اندر ہر تحصیل کی سطح پر کلب قائم کریں جس میں میروڈ بہ، کبڈی وغیرہ کھیلیں کھیلی جائیں۔حضور نے فرمایا میر وڈ بہ ورزش والی بڑی اچھی کھیل ہے۔میں خود بھی کھیلتا رہا ہوں۔حضور نے فرمایا اس کے علاوہ سائیکل چلانا بڑی اچھی ورزش ہے۔سویا بین کی طرح یہ بھی دل کی بیماریوں کے لئے بڑی اچھی ہے۔اس کے علاوہ ان کلبوں میں ڈنڈ پیلینا اور طاقتور ہونے کی دیگر ورزشیں کرائی جاسکتی ہیں۔حضور نے فرمایا کہ یہ طاقت دنیا کو دکھ پہنچانے کے لئے نہیں ہے بلکہ سکھ پہنچانے کے لئے ہے۔نیز فرمایا کہ خدام کو میں یہ پروگرام اس لئے دے رہا ہوں کہ ورزشی کھیلیں تنظیم کی عمدہ مثال ہیں۔اس لئے عملی پر وگرام یہ ہوگا کہ ہر مہینے دو تحصیلوں کا مقابلہ ہو۔ہر سہ ماہی میں ضلع کا مقابلہ ہو۔ہر چھ ماہ میں ایک بار کمشنری کا اور سال میں ایک بار یہاں پر اجتماع میں ملکی سطح کے مقابلے ہوں۔حضور نے فرمایا کہ کھانا اتنا کھاؤ جو ہضم کر لو اور اتنا ہضم کرو کہ طاقت حاصل ہو اور اتنی طاقت حاصل ہو کہ دنیا کی کوئی قوم تمہیں مدد کے لئے بلائے تو تم فوراً پہنچ سکو۔اخلاقی استعدادوں کی ترقی حضور نے اپنے پروگرام کے عملی حصہ میں اخلاقی استعدادوں کی ترقی کے ضمن میں فرمایا ہ مجلس میں