خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 392 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 392

392 (4) اخلاقی بدیوں سے بچو کیونکہ جوشخص ذہنی آوارگی میں مبتلا ہے وہ بھی اور جو جسمانی بدیوں میں مبتلا ہے اس کی بھی صحت قائم نہیں رہ سکتی۔حضور نے فرمایا کہ دوسرا مطالبہ ذہنی قوتوں کو ترقی دینے کا ہے۔اس کی عملی صورتیں یہ ہیں کہ (1) ذہنی آوارگی یعنی دوستوں میں بیٹھ کر بلا مقصد گئیں ہانکنے سے بچا جائے۔(2) مجاہدہ سے بتدریج ذہن کو زیادہ سے زیادہ کام کرنے کا عادی بنایا جائے۔حضور نے فرمایا کہ یورپ کی نوجوان نسل روزانہ بارہ تیرہ گھنٹے پڑھتی ہے اگر ہم نے اس نوجوان نسل کا مقابلہ کرنا ہے تو کم از کم اتنا ہمارے طالب علموں کو بھی پڑھنا پڑھے گا اس کے ساتھ ان کی اپنی دعائیں شامل ہوں گی تو ہم ان سے آگے نکل جائیں گے۔(3) چوکس اور بیدار رہنا پڑے گا۔(4) تیز نظر پیدا کرنی ہوگی۔(5) صفات باری تعالیٰ کے جلووں کو دیکھ کر ان سے پیار کرنے اور ذہنی لذت اور خوشی محسوس کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔حضور نے فرمایا کہ جب تک ہم دنیا کی تمام مہذب قوموں کو علم کے میدان میں شکست نہیں دے دیتے اسلام کو غالب نہیں کر سکتے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ہر احمدی کا ذہن کامل نشو ونما حاصل الفضل 26 اکتوبر 1981ء ص 2) ے۔کلبوں کے قیام کی تحریک اکتوبر 1981ء میں ہی لجنہ اماءاللہ اور خدام الاحمدیہ کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے حضور نے ورزشی کلب بنانے کی تحریک فرمائی۔خداداد استعدادوں کی نشو ونما کے پروگرام کے ایک عملی پہلو کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے سویا بین استعمال کرنے کی طرف توجہ دلائی۔حضور نے فرمایا کہ میں بیس سال سے جماعت کو اس کی طرف توجہ دلا رہا ہوں۔سو یا بین کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کے استعمال سے دل پر کبھی بیماری حملہ نہیں کرتی۔حضور انور نے صحت کو ٹھیک رکھنے اور بہتر بنانے کے لئے فرمایا کہ ہر اس جگہ جہاں پر لجنہ قائم ہے