خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 383 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 383

383 حضور نے اس مقصد کے لئے ایک عظیم تعلیمی منصوبہ جماعت کے سامنے رکھا۔یہ منصوبہ مندرجہ ذیل امور پر مشتمل تھا۔1۔جماعت کا ہر بچہ آئندہ دس سال کے اندر کم از کم میٹرک اور ہر بچی کم از کم مڈل ضرور پاس 2۔کوئی بھی اچھا ذ ہن ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا اور یہ کہ جماعت ہر قیمت پر ہر ذہین بچہ کو سنبھالے گی۔چنانچہ اس کے لئے آپ نے وظائف ادا ئیگی حقوق طلباء کا اعلان فرمایا اور اس فنڈ میں سوالاکھ روپے سالانہ رکھے گئے تا طلباء کو وظائف دیئے جاسکیں۔حضور نے اس عزم کا اظہار فرمایا کہ اگر خدا ہمیں ایک ہزار ذہین بچے بھی دے گا تو جماعت کم کھا کر بھی ان کے پڑھانے کا انتظام کرے گی۔3۔ہراحمدی طالب علم اور طالبہ اپنے سالا نہ امتحان کے نتیجہ کی اطلاع خلیفہ مسیح کو دیا کرے گا۔اس سلسلہ میں حضور نے فرمایا:۔”ساری جماعت کے لئے اعلان ہے کہ پہلی کلاس ( کنڈرگارٹن) سے لے کر پی ایچ ڈی تک امتحان دینے والا ہر بچہ ( لڑکا اور لڑکی ) مجھے خط لکھے۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہر ایک کے لئے خاص طور پر دعا کروں گا اور دفتر کی طرف سے ان کو جواب بھی دیا جائے گا“۔(الفضل 29 اپریل 1980ء) انعامات و تمغہ جات اس منصو بہ کا ایک اہم جز و امتحانات میں اعلیٰ کامیابی حاصل کرنے والے طلباء کے لئے انعامات اور تمغہ جات ہیں۔حضور نے یونیورسٹی یا بورڈ کے امتحانات میں اول ، دوم اور سوم آنے والے طلباء و طالبات کے لئے بھی سونے کے تمغہ جات کا اعلان فرمایا۔نیز ایسی طالبات کے لئے بھی ان تمغوں کا اعلان فرمایا جوطالبات کے گروپ میں اول، دوم یا سوم آئیں۔بشرطیکہ وہ طلباء وطالبات میں پہلی میں پوزیشنوں میں آتی ہوں۔نیز آنرز کے امتحانات میں بھی اول، دوم، سوم آنے والے طلباء و طالبات کے لئے تمغے دینے کا فیصلہ فرمایا بشر طیکہ وہ اس سال کے بی ایس سی کے امتحان میں اول، دوم، سوم آنے والوں کے کم از کم برابر فیصدی نمبر حاصل کریں۔