خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 381
381 احمد یتعلیمی منصوبه سیدنا حضرت خلیفۃ امسح الثالث خلافت سے قبل بطور پرنسپل تعلیم الاسلام کا لج طلباء کی جسمانی صحت اور ذہنی نشو ونما کا بہت خیال رکھتے تھے۔منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد بھی آپ نے روحانی تعلیم کے ساتھ عام دنیاوی تعلیم کا معیار بلند کرنے اور طلباء کو ہر میدان میں آگے بڑھانے کی خاص کوشش فرمائی۔کوئی بچہ ضائع نہ ہو حضور نے احمدی بچوں کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کی تحریک کرتے ہوئے خطبہ جمعہ 29 اگست 1975ء میں فرمایا :۔اگر ہم بین الاقوامی سطح پر ستر پچھتر فیصد سے اوپر نمبر لینے والے دو تین سو بچے پیدا کرنے لگیں تو اس کا بہت اثر ہوسکتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کے بہت اچھے نتائج رونما ہو سکتے ہیں۔اس کے لئے ایک تو یہ ضروری ہے کہ احمدی بچے اپنی ذمہ داری کو سمجھیں دوسرا ضروری امر یہ ہے کہ جماعتی سطح پر اس امر کی کوشش کی جائے کہ کوئی بچہ جسے اللہ تعالیٰ نے ذہنی دولت عطا کی ہے جماعت اس دولت کو ضائع نہیں ہونے دے گی۔ایسے بچوں کی ذہنی نشو ونما ضروری ہے اور یہ نشو ونما نہیں ہو سکتی جب تک کہ دو طرفہ کوشش بروئے کار نہ لائی جائے۔اول یہ کہ بچے اپنی ذہنی استعدادوں اور صلاحیتوں کو ضائع کر کے اللہ تعالیٰ کی ناشکری کے مرتکب نہ ہوں اور اس طرح نہ اپنا نقصان کریں نہ جماعت کا نقصان کریں اور نہ اپنے ملک کو نقصان پہنچانے کا موجب بنیں۔دوسرے یہ کہ جماعتی سطح پر ایسا انتظام ہونا چاہئے کہ کوئی ایک ذہن بھی ترقی کرنے سے نہ رہ جائے۔انگلستان میں اب ایک بڑی جماعت بن چکی ہے۔یہاں کے حالات کے مطابق ایک کمیٹی بن جانی چاہئے جو اس امر کا جائزہ لیتی رہے کہ بچوں کی ذہنی نشو و نما اور ترقی خاطر خواہ طریق پر ہورہی ہے یا نہیں اور اگر نہیں ہو رہی تو کیا اقدامات ضروری ہیں۔اگر صحیح خطوط پر کام کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ بچوں کی ذہنی نشو ونما کا خاطر خواہ انتظام نہ ہو سکے۔بہر حال ساری جماعت میری اس نصیحت کو یا در کھے اور عہد کرے کہ کوئی ایک ذہن بھی ضائع