خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 307
307 پہنچ کر ملک و قوم اور جماعت کی خدمت کے لئے پھر سے اپنی صنعتی سرگرمیاں شروع کر دیں۔جہاں تک جماعت کے نئے مرکز ربوہ کا تعلق ہے اس نئی بستی میں بھی ایک محدود پیمانے پر صنعت و حرفت کے کاموں کی داغ بیل ڈالی گئی۔مگر ان پر صدر انجمن احمد یہ پاکستان کا کنٹرول تھا۔لیکن 1955ء میں سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے سفر یورپ سے واپسی کے بعد مخلص احمدی صناعوں کو تحریک فرمائی کہ وہ یہاں اپنے کارخانے جاری کرنے کے لئے صدر انجمن احمدیہ سے رابطہ قائم کریں انہیں مناسب سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔یہ تحریک حسب ذیل الفاظ میں تھی :۔ربوہ میں صنعتوں وغیرہ کے متعلق پہلے یہ طریق تھا کہ صدرانجمن احمد یہ کوشش کرتی تھی کہ ان کو اپنے ہاتھ میں رکھے۔لیکن اب اگر مخلص احمدی صناع یہاں کوئی صنعت شروع کرنا چاہیں تو ان کو اس کی اجازت دی جائے گی بشرطیکہ وہ اپنی صنعت میں نیک آدمی بطور لیبر لگائیں جو فسادی اور شرارتی نہ ہوں۔اس سلسلہ میں صدرانجمن احمد یہ مناسب سہولتیں بھی بہم پہنچائے گی۔مثلاً کارخانہ کی عمارت وغیرہ کے لئے زمین ربوہ کی قیمتوں کے لحاظ سے نسبتاً سستے داموں دے گی۔خواہش مند احباب جلد درخواستیں بھجوائیں بلکہ مخلص احباب کا فرض ہے کہ وہ اس طرف فوری توجہ کریں تا کہ ربوہ کی آبادی کی صورت پیدا ہو۔خصوصاً کپڑا بننے والے لوگ اور مستری جو لیتھوں (Lathe) وغیرہ کا کام کرتے ہیں۔جلد توجہ کریں یہ ثواب کا ثواب ہے اور فائدہ کا فائدہ۔قادیان میں جن لوگوں نے کارخانے جاری کئے تھے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے بہت کچھ فائدہ اٹھایا تھا۔حضور کی یہ تحریک پہلی بار الفضل مورخہ 21 /اکتوبر 1955ء ص 5 پر شائع ہوئی۔الفاظ مبارک حضور پر نور ہی کے تھے مگر اعلان قائم مقام ناظر امور عامہ کی طرف سے تھا۔تاجروں کی تنظیم : جلسہ سالانہ 1944ء پر حضور نے جماعتی تاجروں کی تنظیم کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:۔یہ بھی ضروری ہے کہ جماعت کی تجارتی تنظیم بھی ہو جائے۔اب میں نے مرکز میں اس کے لئے ایک ادارہ بھی قائم کر دیا ہے اور سیکرٹری مقرر کر دیا ہے کیونکہ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ساتھ تجارتی تنظیم کا کام بہت ضروری ہے۔اب بعض چیزیں قریباً تیار ہیں مگر انہیں کامیابی کے ساتھ چلانے کے لئے دوستوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔مثلاً یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ اس قسم کی چیزوں میں دلچسپی