خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 306 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 306

306 کارخانہ شیشے کا بھی تھا۔غرض قادیان کی مقدس بستی روحانی اور تعلیمی اعتبار ہی سے نہیں صنعتی طور پر بھی ملک کا ایک مشہور مرکز بن چکی تھی۔یہ صنعتی سرگرمیاں حضرت مصلح موعودؓ کی خصوصی توجہ ، شوق اور سر پرستی کی رہین منت تھیں۔اس سلسلہ میں حضور کے دلی جذبات کیا تھے؟ اس کا کسی قدر اندازہ حضور کی مندرجہ ذیل تقریر سے بخوبی عیاں ہے۔حضور نے مجلس مشاورت 1936ء کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: میں نہیں جانتا کہ دوسرے دوستوں کا کیا حال ہے۔لیکن میں تو جب ریل گاڑی میں بیٹھتا ہوں۔میرے دل میں حسرت ہوتی ہے کہ کاش یہ ریل گاڑی احمدیوں کی بنائی ہوئی ہو اور اس کی کمپنی کے وہ مالک ہوں اور جب میں جہاز میں بیٹھتا ہوں تو کہتا ہوں کہ کاش یہ جہاز احمدیوں کے بنائے ہوئے ہوں اور وہ ان کمپنیوں کے مالک ہوں۔میں پچھلے دنوں کراچی گیا تو اپنے دوستوں سے کہا۔کاش کوئی دوست جہاز نہیں تو کشتی بنا کر ہی سمندر میں چلانے لگے اور میری یہ حسرت پوری کر دے اور میں اس میں بیٹھ کر کہہ سکوں کہ آزاد سمندر میں یہ احمدیوں کی کشتی پھر رہی ہے۔دوستوں سے میں نے یہ بھی کہا۔کاش کوئی دس گز کا ہی جزیرہ ہو جس میں احمدی ہی احمدی ہوں اور ہم کہہ سکیں کہ یہ احمدیوں کا ملک ہے کہ بڑے کاموں کی ابتداء چھوٹی ہی چیزوں سے ہوتی ہے۔یہ ہیں میرے ارادے اور یہ ہیں میری تمنائیں۔ان کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم کام شروع کریں۔مگر یہ کام ترقی نہیں کر سکتا۔جب تک کہ ان جذبات کی لہریں ہر ایک احمدی کے دل میں پیدا نہ ہوں اور اس کے لئے جس قربانی کی ضرورت ہے وہ نہ کی جائے۔دنیا چونکہ صنعت و حرفت میں بہت ترقی کر چکی ہے اس لئے احمدی جو اشیاء اب بنائیں گے وہ شروع میں مہنگی پڑیں گی۔مگر باوجود اس کے جماعت کا فرض ہے کہ انہیں خریدے“۔رپورٹ مجلس مشاورت منعقد 10, 11, 12 اپریل 1936ء ص 129 130 ) ربوہ میں کارخانوں کی تحریک 1947ء میں ملک کے بٹوارا کے بعد یہ کارخانے قادیان میں رہ گئے۔لیکن اس کے باوجود قادیان رمشرقی پنجاب کے احمدی صناعوں نے ہمت نہیں ہاری اور بدلے ہوئے حالات میں پاکستان میں