خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 308
308 لینے والے تاجر کون ہیں جن کے پاس ان کو فروخت کیا جا سکتا ہے یا جن کے ساتھ مل کر کام کو چلایا جاسکتا ہے۔اگر دوست اس کام میں دلچسپی لیں تو خود ان کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے اور سب سے بڑی چیز جو میرے مد نظر ہے یہ ہے کہ تاجروں کو منظم کر کے تبلیغ کے کام کو وسیع کیا جائے۔بعض سکیمیں ایسی ہیں کہ جن سے تاجروں کو بھی کافی فائدہ پہنچ سکتا ہے اور تبلیغ کے کام میں بھی مددمل سکتی ہے۔یہ سب باتیں میں اسی صورت میں بیان کر سکتا ہوں کہ تجارتی تنظیم مکمل ہو جائے اور احمدی تاجروں کی انجمن قائم ہو جائے۔جماعتی تعاون تجارت میں بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے کئی ایسے لوگ ہیں جو تجارتی کاموں میں پڑنا چاہتے ہیں مگر ان کو واقفیت نہیں ہوتی کہ کیا کام شروع کریں، کس طرح کریں اور کہاں سے کریں۔بعض کے پاس سرمایہ نہیں ہوتا ، بعض کے پاس سرمایہ تو تھوڑا بہت ہوتا ہے مگر انہیں کام کرنے کا ذریعہ معلوم نہیں ہوتا۔اگر جماعت کی تجارتی تنظیم ہو جائے تو ایک دوسرے کو بہت مددمل سکتی ہے۔پھر کئی ایسے ممالک ہیں کہ اگر احمدی تاجر وہاں جائیں تو بہت جلد ترقی کی امید کر سکتے ہیں۔پس میں جماعت کے تاجروں کو اپنے اس خطبہ کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔تبلیغ کے سلسلہ کے لئے ان کا جلد از جلد منتظم ہونا بہت ضروری ہے۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ اس وقت مزدوروں اور کارخانہ داروں کے درمیان لڑائیاں جاری ہیں لیکن ہم ایسے رنگ میں اس سکیم کو چلانا چاہتے ہیں کہ ایسے جھگڑے پیدا ہی نہ ہوں اور دونوں ترقی کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کر سکیں اور ہم اس کے لئے بہت سی باتیں بتاسکتے ہیں مگر پبلک میں ان کا بیان کرنا مناسب نہیں۔تاجر احباب جلد سے جلد اپنی انجمن بنالیں جس کے سامنے میں یہ باتیں بیان کر دوں گا۔احمدی تاجروں کو چاہئے کہ وہ جلد سے جلد اپنے نام تحریک جدید کے دفتر میں بھجوا دیں اور جس قسم کا تعاون کر سکیں کریں۔ان کاموں کے چلانے کے لئے واقفین کی بھی ضرورت ہے اور نو جوانوں کو چاہئے کہ ان کاموں کے لئے اپنے آپ کو وقف کریں۔(انوار العلوم جلد 17 ص 481) تجارتی سکیم حضور نے 28 دسمبر 1947ء کو جلسہ سالانہ کی تقریر میں ایک تجارتی سکیم کا اعلان کرتے ہوئے افرمایا: