خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 15 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 15

15 کی دیرینہ خواہش ہے کہ قرآن مجید کے نہایت اعلیٰ معلم موصل وغیرہ سے منگوائے جائیں۔اس وقت تک ہر چند یہاں قرآن مجید کی تعلیم و تدریس کی طرف توجہ ہے لیکن پھر بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔حفظ قرآن اور تعلیم قراءت کا کوئی انتظام نہیں۔الحکم میں پچھلے دنوں میں نے حضرت خلیفتہ امیج کو اس ضرورت کی طرف توجہ بھی دلائی تھی۔خدا کا شکر ہے کہ یہ خواہش اس رنگ میں پوری ہونے لگی ہے۔حضرت خلیفۃ اسیح نے حضرت میر ناصر نواب صاحب قبلہ کو یہ خدمت سپرد کی ہے کہ وہ اس دار القرآن کی تعمیر کا کام شروع کر دیں۔اس کے لئے کم از کم دس ہزار روپیہ درکار ہوگا۔چندہ کی فہرست کھول دی گئی ہے۔ایڈیٹر الحکم چاہتا ہے کہ اس کے ناظرین اس کارخیر میں کم از کم اڑھائی ہزار جمع کر دیں اور یہ رقم خریداران الحکم کی طرف سے دارالقرآن کے لئے دی جاوے۔الحکم 21 فروری 1913 ء ص 3) مگر بعد میں حضور کی ہدایت پر یہ طے پایا کہ موجودہ مسجد اقصیٰ میں ہی ایک بڑا کمرہ تیار کر والیا جائے جو درس کے کام بھی آسکے اور نمازی بھی اس میں آرام سے نماز پڑھ سکیں۔چنانچہ اس فیصلہ کی تعمیل میں حضرت میر صاحب موصوف نے وہ ہال کمرہ بنوادیا۔(حیات نورص 605) درس کا سلسلہ جاری رہے 1910ء میں حضور گھوڑے سے گر کر زخمی ہو گئے۔آپ کی بیماری سے جماعت کو جو نقصان پہنچا اس میں آپ کے درس قرآن کی محرومی سب سے بڑا نقصان تھا۔جس کا آپ کو خود بھی بہت احساس تھا۔چنانچہ آپ نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو حکم دیا کہ عصر کے بعد قرآن مجید کا درس دیا کریں اور اگر وہ کسی وجہ سے نہ دے سکیں تو مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب درس دیں اگر وہ بھی نہ دے سکیں تو قاضی امیر حسین صاحب درس دیں چنانچہ حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب نے 13 فروری 1911ء سے درس شروع کر دیا۔الحام 14 فروری 1911 ء ص 4 کالم 1) حضرت خلیفہ اسیح الاول کی روحانی توجہ اور بار بار ترغیب کے نتیجہ میں جماعت کے اندر قرآن کریم کا درس دینے اور درس سننے کا خاص ذوق پیدا ہو گیا تھا قادیان میں حضور کے علاوہ درس دینے والوں میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا نام نامی بہت نمایاں تھا۔