خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 14
14 والے ہوتے ہیں اس واسطے ہر طرف سے متعلمان درس بڑے اور چھوٹے بچے اور بوڑھے، پیارا قرآن بغلوں میں دبائے حضرت کے مکان کی طرف دوڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔تھوڑی دیر میں صحن مکان بھر جاتا ہے۔حضرت کے انتظار میں کوئی اپنی روزانہ منزل پڑھ رہا ہے۔کوئی کل کے پڑھے ہوئے کو دہرا رہا ہے۔کیا مبارک فجر ہے مومنوں کی تھوڑی دیر میں حضرت کی آمد اور قرآن خوانی سے ساری مجلس بقعہ نور نظر آنے لگتی ہے۔نصف پارہ کے قریب پڑھا جاتا ہے۔اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔تفسیر کی جاتی ہے سائلین کے سوالات کے جواب دیئے جاتے ہیں۔تقویٰ و عمل کی تاکید بار بار کی جاتی ہے۔لطیف مثالوں سے مطالب کو عام فہم اور آسان کر دیا ہے۔اس کے بعد اندرون مکان میں عورتوں کو درس قرآن دیا جاتا ہے۔پھر ظہر کے بعد سب لوگ مسجد اقصیٰ میں جمع ہوتے ہیں وہاں حضرت خلیفہ مسیح بھی تشریف لے جاتے ہیں اور صبح کی طرح وہاں پھر درس ہوتا ہے۔بعد عشاء مسجد اقصیٰ میں حافظ جمال الدین صاحب تراویح میں قرآن شریف سناتے ہیں اور حضرت کے مکان پر حافظ ابواللیث محمد اسمعیل صاحب سناتے ہیں۔غرض اس طرح قرآن شریف کے پڑھنے پڑھانے اور سنے کا ایسا شغل ان ایام میں دن رات رہتا ہے کہ گویا اس مہینہ میں قرآن شریف کا ایک خاص نزول ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح اپنے دردمند دل کی دعاؤں کے ساتھ قرآن شریف سناتے ہیں۔درس کے بعد سامعین کے واسطے دعائیں کرتے ہیں۔دارالقرآن تاریخ احمدیت جلد 3 ص 603 حضرت خلیفہ المسیح الاول کو قرآن کریم کی تعلیم واشاعت کا جوش فطرتا عطا ہوا تھا اور ہمیشہ قر آن کریم کا درس دیتے رہتے تھے جو عموماً مسجد اقصیٰ میں ہوتا تھا مگر آپ کی خواہش تھی کہ ایک خاص کمرہ اس مقصد کے لئے بنایا جائے جو صرف درس قرآن کے لئے وقف ہو۔اس کمرہ کے لئے حضرت اماں جان نے زمین کا ایک قطعہ دینے کا وعدہ کیا۔اس کمرہ کی تعمیر کے لئے جماعت میں مالی تحریک بھی کی گئی اس کا ذکر کرتے ہوئے ایڈیٹر الحکم لکھتے ہیں: جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ دارالقرآن در اصل مدرسہ تعلیم القرآن کا مقدمہ ہے۔حضرت خلیفہ ایسیح