خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 16 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 16

16 فروری 1910 ء سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے نماز مغرب کے بعد (الحکم 21 فروری 1910ء ص 5 کالم 3) قرآن مجید کا درس دینا شروع فرمایا۔وسط 1913ء سے آپ دن میں دو دفعہ درس دینے لگے یعنی فجر اور ظہر کے بعد۔الفضل 18 جون 1913 ء ص 1 ) اس کے علاوہ بھی سید نا محمود نے نوجوانوں کے لئے کئی بار مختلف قسم کی تربیتی کلاسز کا انعقاد فرمایا۔مثلاً 1910ء میں آپ نے سکولوں اور کالجوں کی تعطیلات کے دوران قادیان آنے والے طلباء کے لئے ایک تربیتی کلاس کا اجراء فرمایا۔کلاس کے نصاب میں قرآن و حدیث اور بعض قصائد شامل تھے۔آپ نے ان کو بڑی محنت سے پڑھایا اور عربی و دینی علوم سے متعارف کیا۔آخری وصیت ( بدر 12 مئی 1910ء ص 2 کالم (1) 4 مارچ 1914 ء کو نماز عصر کے بعد حضرت خلیفہ اول کو یکا یک ضعف محسوس ہونے لگا۔اسی وقت آپ نے حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب کو قلم دوات لانے کا حکم دیا۔چنانچہ وہ قلم دوات اور کاغذ لے آئے اور آپ نے لیٹے لیٹے کا غذ ہاتھ میں لیا اور جو وصیت لکھی اس میں فرمایا قرآن وحدیث کا درس جاری رہے۔( الحکم 7 مارچ 1914ء ص 5) حضرت خلیفہ مسیح الاول کا یہی طرز عمل اور یہی وصیت تھی جس نے آئندہ جماعت احمدیہ میں درس قرآن کو ہمیشہ کے لئے جاری کر دیا۔آپ نے وفات سے پہلے اپنی بیٹی امتہ الحی صاحبہ سے فرمایا کہ میرے مرنے کے بعد میاں (بشیر الدین محمود احمد صاحب) سے کہہ دینا کہ وہ عورتوں میں بھی درس دیا کریں۔تاریخ احمدیت جلد 3 ص 512) چنانچہ آپ کی وصیت کے مطابق حضرت مصلح موعودؓ نے عورتوں میں الگ درس کا بھی اہتمام فرمایا اور ایم ٹی اے تو بالواسطہ یا بلا واسطہ در حقیقت قرآن کریم کی تعلیمات اور درس کے لئے وقف ہے۔