خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 244
244 ذیلی تنظیموں کا قیام حضرت مصلح موعودؓ ایک روحانی جماعت کے بلند پایہ موعود رہنما تھے اور اس جماعت نے صدیوں دنیا کی اصلاح اور قیادت کا فریضہ سرانجام دینا ہے۔اس لئے نسلاً بعد نسل الہی نور کو منتقل کرنے کی ضرورت کو حضور خوب سمجھتے تھے۔پس آپ نے مرکزی نظام جماعت کو مستحکم بنیا دوں پر قائم کرنے کے بعد جماعت میں ذیلی تنظیموں کی تحریکات فرمائیں اور جماعت کے ہر فر دکو ایک مضبوط لڑی میں پرو دیا۔آپ نے نظام سلسلہ کی تشکیل کے وقت نہ صرف تاریخ عالم کا گہرا مطالعہ فرمایا بلکہ انسانی جسم کے نظام کا بھی مکمل مطالعہ کیا جس میں اللہ تعالیٰ نے ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے بکثرت متبادل راستے تجویز کر رکھے ہیں۔مثلاً اگر ایک شریان بند ہو تو دوسری شریان نیا راستہ مہیا کر کے زندگی کو بچالیتی ہے۔آپ نے لجنہ اماءاللہ ( مع ناصرات الاحمدیہ ) مجلس خدام الاحمدیہ ( مع اطفال الاحمدیہ ) اور مجلس انصار اللہ کا قیام بڑی محنت اور توجہ سے فرمایا اور پروان چڑھایا اور نظام جماعت کے ساتھ ان کا رابطہ قائم کرتے ہوئے فرمایا:۔اگر ایک طرف نظارتیں جو نظام کی قائم مقام ہیں عوام کو بیدار کرتی رہیں اور دوسری طرف خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ جو عوام کے قائم مقام ہیں۔نظام کو بیدار کرتے رہیں تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ کسی وقت جماعت کلی طور پر گر جائے اور اس کا قدم ترقی کی طرف اٹھنے سے رک جائے۔جب بھی ایک غافل ہو گا دوسرا اسے جگانے کے لئے تیار ہوگا۔۔۔۔یادرکھو اگر اصلاح جماعت کا سارا دارومدار نظارتوں پر ہی رہا تو جماعت احمدیہ کی زندگی کبھی لمبی نہیں ہوسکتی۔یہ خدائی قانون ہے جو کبھی بدل نہیں سکتا کہ ایک حصہ سوئے گا اور ایک حصہ جاگے گا۔ایک حصہ غافل ہو گا اور ایک حصہ ہوشیار ہوگا۔خدا تعالیٰ نے دنیا کو گول بنا کر فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے قانون میں یہ بات داخل ہے کہ دنیا کا ایک حصہ سوئے اور ایک حصہ جاگے۔۔۔۔یہی نظام اور عوام کے کام کا تسلسل دنیا میں دکھائی دیتا ہے۔(لفضل 17 نومبر 1943ء) حضور نے خدام ، اطفال، انصار اور لجنہ کو نظام جماعت کی چار دیواری سے تشبیہ دی۔خدام جوش و امنگ کی علامت ہیں۔انصار حکمت اور تجربہ کے نقیب ہیں اور لجنہ سلیقہ اور استقلال کی نمائندہ ہے اور