خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 245 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 245

245 مسابقت کی دوڑ میں حصہ لے کر ان سب نے جو اثرات مرتب کئے میں ان کا ذکر کرتے ہوئے مجلس احرار کا تر جمان زمزم لکھتا ہے:۔ایک ہم ہیں کہ ہماری کوئی بھی تنظیم نہیں اور ایک وہ ہیں کہ جن کی تنظیم در تنظیم کی تنظیمیں ہیں۔ایک ہم ہیں کہ آوارہ منتشر اور پریشان ہیں۔ایک وہ ہیں کہ حلقہ در حلقہ محدود و محصور اور مضبوط اور منتظم ہیں۔ایک حلقہ احمدیت ہے۔اس میں چھوٹا بڑا زن و مرد، بچہ بوڑھا۔ہر احمدی مرکز نبوت پر مرکوز ومجتمع ہے۔مگر تنظیم کی ضرورت اور برکات کا علم و احساس ملاحظہ ہو کہ اس جامع و مانع تنظیم پر بس نہیں۔اس وسیع حلقہ کے اندر متعدد چھوٹے چھوٹے حلقے بنا کر ہر فرد کو اس طرح جکڑ دیا گیا ہے کہ ہل نہ سکے۔عورتوں کی مستقل جماعت لجنہ اماءاللہ ہے۔اس کا مستقل نظام ہے۔سالانہ جلسہ کے موقعہ پر اس کا جدا گانہ سالانہ جلسہ ہوتا ہے۔خدام الاحمدیہ نو جوانوں کا جدا نظام ہے۔پندرہ تا چالیس سال کے ہر فرد جماعت کا خدام الاحمدیہ میں شامل ہونا ضروری ہے۔چالیس سال سے اوپر والوں کا مستقل ایک اور حلقہ ہے۔انصار اللہ جس میں چوہدری سرمحمد ظفر اللہ خان تک شامل ہیں۔میں ان واقعات اور حالات میں مسلمانوں سے صرف اس قدر دریافت کرتا ہوں کہ کیا ابھی تمہارے جاگنے اور اٹھنے اور منظم ہونے کا وقت نہیں آیا؟ تم نے ان متعد د مور چوں کے مقابلہ میں کوئی ایک بھی مورچہ لگایا ؟ حریف نے عورتوں تک کو میدان جہاد میں لا کھڑا کیا۔۔میرے نزدیک ہماری ذلت و رسوائی اور میدان کشاکش میں شکست و پسپائی کا ایک بہت بڑا سبب یہی غلط معیار شرافت ہے“۔(زمزم لاہور 23 جنوری 1945ء بحوالہ الفضل 18 اپریل 1945ء) ان تینوں تنظیموں کے متعلق حضور کی تحریکات اور تدریجی مراحل درج ذیل ہیں:۔لجنہ اماءاللہ کا قیام سیدنا حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفہ اول کے زمانہ مبارک میں جو مجالس قائم ہوئیں وہ سب مردوں کی تھیں۔مثلاً ” اشاعت اسلام۔صدرانجمن احمدیہ - تفخیذ الا ذہان۔مجلس احباب - مجمع الاخوان - مجلس ارشاد وغیرہ۔لیکن مستورات کیکوئی علمی و دینی اور تمدنی انجمن اس وقت تک موجود نہ تھی۔لہذا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے اپنی حرم دوم امتہ الحی صاحبہ کی تحریک پر 25 دسمبر 1922ء کو لجنہ