خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 238 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 238

238 اگر احمدی بچے اس پر پچاس ہزار روپے پیش کر دیں تو وہ دنیا میں ایک بہترین نمونہ قائم کرنے والے ہوں گے۔“ (الفضل 12 اکتوبر 1966ء) جماعت احمدیہ کے بچوں اور بچیوں اطفال الاحمدیہ اور ناصرات الاحمدیہ نے اپنے پیارے امام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے جیب خرچ اور اپنی عیدی اپنے امام کے حضور پیش کر دی۔چندہ اطفال کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ایک تو وہ عام بچے ہیں جو چھ روپے سالانہ یا اس سے کچھ زائد چندہ ادا کرتے ہیں۔دوسرے وہ نھے مجاہدین اور منفی مجاہدات ہیں جو سالانہ ایک سوروپیہ یا اس سے زائد چندہ ادا کرتے ہیں۔چندہ اطفال وقف جدید کی وصولی کا تمام کام خدام الاحمدیہ کے سپرد ہے اور ناصرات کا چندہ لجنہ اماءاللہ کے سپر د ہے اور سات سال سے کم عمر بچگان بھی لجنہ اماءاللہ کے ساتھ منسلک ہیں۔حضرت خلیفۃ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے 12 جنوری 2006 ء کے خطبہ جمعہ میں بیرون پاکستان اطفال کو بھی چندہ وقف جدید میں شامل کرنے کا ارشاد فرمایا۔( الفضل 6 مارچ 2007ء) 1958ء میں چندہ وقف جدید کی کل آمد 70 ہزار روپے تھی جو 1965ء میں 1,24324 روپے ہو گئی۔2007ء کے اختتام پر وقف جدید کا چندہ 24 لاکھ 27 ہزار پونڈ تھا۔اور چندہ دھندگان کی تعداد 5 لاکھ 10 ہزار سے زائد ہو چکی تھی۔وقف جدید کے ضمن میں ایک تحریک حضرت مصلح موعودؓ نے زرعی زمین وقف کرنے کے متعلق فرمائی تھی۔آپ نے فرمایا میں امید رکھتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کے معزز زمیندار کراچی سے پشاور تک اپنے اپنے گاؤں کے ارد گرد دس ایکڑ زمین اس سکیم کے لئے وقف کر دیں گے۔اس میں یہ واقفین کھیتی باڑی کریں گے۔اور اس سے سکیم کو چلانے میں مدد دیں گے۔(الفضل 7 جنوری 1958ء) چنانچہ خلافت ثانیہ میں 700 را یکٹر ز مین اس سکیم کے تحت وقف ہو چکی تھی۔دیگر خدمات علاقہ نگر پارکر میں دعوت الی اللہ کا کام جاری ہے۔یہ علاقہ صوبہ سندھ میں ہے اور بھارت کے