خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 237
1۔چندہ وقف جدید بالغاں 2۔چندہ وقف جدید اطفال و ناصرات 3۔قیام مراکز 4۔امدا د مراکز 237 چندہ وقف جدید بالغاں: اس کے دو حصے ہیں ایک احباب جماعت اپنی استطاعت کے مطابق چندہ ادا کرتے ہیں دوسرے معاونین خصوصی ہوتے ہیں صف اول کے معاونین خصوصی ایسے افراد جماعت جو ایک ہزار روپیہ یا اس سے زائدہ سالانہ ادا کرتے ہیں۔صف دوم کے معاونین خصوصی ایسے افراد جماعت جو پانچ سو روپیہ سے 999 روپے تک سالانہ ادا کرتے ہیں۔قیام مراکز : ایسی جماعتیں یا افراد جو وقف جدید کے معلم کا سارا خرچ یا کچھ حصہ وقف جدید کو ادا کرتے ہیں یہ رقم چندہ وقف جدید کے علاوہ ہوتی ہے۔امداد مراکز : وقف جدید کے تحت پاکستان کے ضلع تھر پارکر میں جہاں ہندوؤں کی ایک کثیر تعداد ہے۔وہاں ہندوؤں میں دعوت الی اللہ کا کام ہو رہا ہے اس کام کے لئے حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے 1978 ء میں ایک خصوصی مد امداد مراکز کے نام سے قائم فرمائی۔جس کا بجٹ ایک لاکھ روپیہ مقرر فرمایا۔دفتر اطفال: حضرت خلیفة المسیح الثالث نے 7 اکتو بر 1966 ء کو دفتر اطفال کا اعلان فرمایا۔آپ نے 15 سال کی عمر کے لڑکوں اور لڑکیوں۔اطفال اور ناصرات کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔میں آج احمدی بچوں (لڑکوں اور لڑکیوں) سے اپیل کرتا ہوں کہ اے خدا اور اس کے رسول کے بچو۔اٹھو اور آگے بڑھو اور تمہارے بڑوں کی غفلت کے نتیجہ میں وقف جدید کے کام میں جو رخنہ پڑ گیا ہے اسے پر کر دو اور اس کمزوری کو دور کر دو۔۔۔۔وہ بچے جو اپنی عمر کے لحاظ سے اطفال الاحمدیہ یا ناصرات الاحمدیہ میں شامل ہو چکے ہیں یعنی ان کی عمریں سات سال سے پندرہ سال کی ہیں اگر وہ مہینہ میں ایک اٹھنی وقف جدید میں دیں تو جماعت کے سینکڑوں ہزاروں خاندان ایسے ہیں جن پر ان بچوں کی قربانی کے نتیجہ میں کوئی ایسا بار نہیں پڑے گا۔اب سال کا بہت تھوڑا حصہ باقی رہ گیا ہے