خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 239 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 239

239 بارڈر کے ساتھ نہایت حساس علاقہ ہے اور یہ علاقہ بہت ہی پسماندہ ہے وہاں زندگی کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں وہاں اب بھی لوگ گھاس پھونس کی جھونپڑیوں میں رہتے ہیں اس علاقے کے اکثر لوگوں نے ریل گاڑی میں سفر کرنا تو در کنار ریل گاڑی دیکھی تک نہیں۔پانی اور بجلی کا کوئی تصور نہیں ہے۔اگر بارش ہو جائے تو ان لوگوں کی خوراک کا انتظام ہو جاتا ہے اور اگر بارش نہ ہو۔تو یہ علاقہ قحط کا شکار ہو جاتا ہے ہے اور لوگ اس علاقہ کو چھوڑ کر بالائی سندھ چلے جاتے ہیں جہاں محنت مزدوری کرتے ہیں اس علاقہ میں ہندوؤں کی قدیم اور پسماندہ ذات کے لوگ آباد ہیں۔جن کا پیشہ جانور پالنا وغیرہ ہے۔اس قسم کے پسماندہ علاقہ میں وقف جدید کے معلمین جا کر کام کر رہے ہیں۔ان معلمین کو بعض اوقات پینے کے لئے پانی کئی کئی میل سے لانا پڑتا ہے۔وہاں معلمین نہایت اخلاص اور جانفشانی سے کام کر رہے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے انسانی کوششیں ثمر آور ہورہی ہیں اور اس قوم میں بڑے اچھے پھل مل رہے ہیں۔1962ء میں مکرم سعید احمد صاحب کمپوڈر کے ذریعہ ٹھی ونگر پارکر میں دعوت الی اللہ کے کام آغاز ہوا خدا تعالیٰ کے فضل سے چند پھل بھی ملے۔جس کا ذکر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے وقف جدید کے پانچویں سال نو کے پیغام میں فرمایا۔مجھے بتایا گیا ہے کہ وقف جدید کے ماتحت اب اچھوت اقوام تک بھی دین حق کا پیغام پہچانے کا کام شروع کر دیا ہے اور اس کے امید افزا نتائج پیدا ہور ہے ہیں۔“ 1987ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے اس علاقہ کے لئے ایک نائب ناظم ارشاد برائے مٹھی کا تقر فرمایا اور اب اس علاقہ کو تین بڑے سنٹروں میں تقسیم کر کے دعوت الی اللہ کا کام ہو رہا ہے۔مٹھی ، نگر پارکر اور دانو داندل اس کے علاوہ 30 معلمین مختلف گوٹھوں میں کام کر رہے ہیں۔اب تک ان لوگوں میں سے احمدی ہونے والے سات نواحمدی بطور معلم وقف جدید اور ایک مربی سلسلہ کام کر رہے ہیں اور تین طلباہ مدرستہ الظفر میں زیر تعلیم ہیں۔اب تک ہزاروں افراد خدا تعالیٰ کی تو حید قبول کر چکے ہیں اور دوسو سے زائد دیہات سے احمدی احباب ہیں۔معلمین اصلاح وارشاد تعلیم و تربیت کا کام کرنے کے ساتھ ان ناخواندہ اور پسماندہ قوم کے بچوں کا تعلیم کا انتظام بھی کرتے ہیں اب ان کی تعلیم کا انتظام کیا جارہا ہے۔ان بچوں کو با قاعدہ ایک بورڈنگ ہاؤس میں رکھ کر ان کی تعلیم و