خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 230 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 230

230 گی۔اس طرح اگلے دو سال کی جدو جہد میں ہم سب کو تعلیم یافتہ بنادیں گے۔۔۔پس یہ کوئی مشکل امر نہیں۔اگر کوئی دقت ہے تو محض یہ کہ ہم اس کے لئے ارادہ اور عزم نہیں کرتے۔پس ایک تحریک میں نے یہ کی تھی کہ ہر تعلیم یافتہ ہر مرد ہر تعلیم یافتہ عورت کم سے کم کسی ایک مرد یا عورت کو معمولی لکھنا پڑھنا سکھا دے اور زیادہ ہو جائے تو یہ اور بھی اچھی بات ہے“۔(روزنامه الصلح کرا چی 21 فروری 1954 ء ) اساتذہ کی ذمہ داری حضرت مصلح موعودؓ نے احباب جماعت کو تعلیمی میدان میں زیادہ سے زیادہ آگے بڑھانے کے علاوہ مرکزی درسگاہوں کے احمدی اساتذہ کو بچوں کی نگرانی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے فرمایا کہ: ”میرے نزدیک اس کی کلی طور پر ذمہ داری سکول کے عملہ پر ہے اور کالج کے لڑکوں کی ذمہ داری کالج کے عملہ پر ہے۔اگر سکول یا کالج کا نتیجہ خراب ہو اور کالج یا سکول کا عملہ اس پر عذر کرے تو میں یہ کہوں گا یہ منافقانہ بات ہے اگر لڑ کے ہوشیار نہیں تھے اگر لڑ کے محنت نہ کرتے تھے اور اگر لڑ کے پڑھائی کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے تو ان کا کام تھا کہ وہ ایک ایک کے پاس جاتے اور ان کی اصلاح کرتے۔اگر وہ متوجہ نہ ہوتے تو ان کے والدین کو اس طرف متوجہ کرتے اور ان کو مجبور کرتے کہ وہ تعلیم کو اچھی طرح حاصل کریں۔ہماری جماعت کے لئے اعلی تعلیم کا حصول اب بہت ضروری ہے۔اگر ہم میں اعلی تعلیم یافتہ نہ ہوں گے تو ساری سکیم فیل ہو جائے گی“۔(الفضل 30 جنوری 1945ء) تعلیمی اداروں کی فہرست حضرت مصلح موعودؓ کے زیر نگرانی پاکستان میں جو تعلیمی ادارے قائم ہوئے ان کی ایک فہرست جامعہ احمد یہ ربوہ تعلیم الاسلام کا لج ربوہ تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ ، نصرت گرلز ہائی سکول ربوہ، جامعہ نصرت ربوہ ، نصرت انڈسٹریل سکول ربوہ، فضل عمر ماڈل سکول ربوہ تعلیم الاسلام انٹرمیڈیٹ کالج گھٹیالیاں تعلیم الاسلام ہائی سکول گھٹیالیاں، تعلیم الاسلام سیکنڈری سکول کراچی، احمد یہ گرلز ہائی