خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 229 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 229

229 انسپکٹر بھی مہیا کئے گئے۔تعلیمی اعداد و شمار جب حضور کی خدمت میں پیش کئے گئے تو حضور نے ارشاد فرمایا:۔ساتھ کے ساتھ ان علاقوں میں تعلیم پر زور دیا جائے جو تعلیم حاصل نہیں کر رہے انہیں تعلیم پر مجبور کیا جائے اور جو کر رہے ہیں انہیں اعلی تعلیم پر۔انسپکٹر ان کی تقرری کے موقعہ پر یہ ہدایت خاص فرمائی کہ ( الفضل 5 جون 1945ء) پانچ ماہ کے لئے منظور ہے جہاں تک میں سمجھتا ہوں اگر جماعت کو منظم کیا جائے تو باقی صیغوں کی طرح اس صیغہ کے سیکرٹری یہ کام سنبھال سکیں گے“۔چنانچہ ان ہر دوا حکام کی تعمیل کی گئی اور جب جماعت میں تعلیم کی اشاعت و فروغ کی ایک روچیل نکلی تو پانچ ماہ کے بعد یہ کام سیکر ٹریان تعلیم وتربیت کے سپرد کر دیا گیا۔تعلیم بالغاں کی تحریک یکم جنوری 1954ء کو حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے خطبہ جمعہ میں پھر تحریک فرمائی کہ ہر تعلیم یافتہ احمدی مرد اور عورت کسی ایک ناخواندہ مرد یا عورت کو لکھنا پڑھنا سکھانے کی کوشش کرے۔آپ نے فرمایا: وو جو باتیں میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر جماعت کے مردوں اور عورتوں کے سامنے رکھی ہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ ہر تعلیم یافتہ مرداور ہر تعلیم یافتہ عورت جماعت کے کسی ایک مرد یا عورت کو جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے معمولی لکھنا پڑھنا سکھا دے۔ہماری جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے تعلیم یافتہ طبقہ زیادہ ہے۔اگر ہم عزم کر لیں اور پھر اس کے مطابق عمل کریں تو اگلے سال ہماری پچاس فیصدی تعداد تعلیم یافتہ ہو جائے گی۔پھر اگر اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ گور بوہ میں عورتیں تعلیم کے لحاظ سے مردوں سے بہت زیادہ آگے ہیں لیکن باہر کی جماعتوں میں عورتوں کی تعلیم کا یہ معیار نہیں۔اگر ہم عورتوں کے لحاظ سے وہی معیار لے لیں جو دوسرے مسلمانوں میں مردوں کا ہے تب بھی جماعت کی ساڑھے تیرہ فیصدی عورتیں تعلیم یافتہ ہیں۔اگر جماعت کی ہر لکھی پڑھی عورت کم سے کم ایک عورت کو معمولی لکھنا پڑھنا سکھا دے تو اگلے سال تعلیم یافتہ عورتوں کی تعداد 25 فیصدی ہو جائے