خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 228
228 اعلی تعلیم کے لئے یہ وہ پودا تھا جو 1939ء میں لگایا گیا اور 1979ء میں اللہ تعالیٰ نے انہیں نوبیل انعام حاصل کر کے دنیا میں احمدیت کا وقار بلند کرنے کا موقع عطا فرمایا۔جماعت احمدیہ میں اعلی تعلیم کی توسیع کے لئے سکیم حضور نے 19 اکتوبر 1945ء کو احمدیوں میں اعلیٰ تعلیم کے عام کرنے کے لئے ایک نہایت اہم سکیم تیار کی جس کا بنیادی نقطہ یہ تھا کہ ”جس طرح ہماری جماعت دوسرے کاموں کے لئے چندہ کرتی ہے اسی طرح ہر گاؤں میں اس کے لئے کچھ چندہ جمع کر لیا جائے جس سے اس گاؤں کے اعلیٰ نمبروں پر پاس ہونے والے لڑکے یا لڑکوں کو وظیفہ دیا جائے۔اس طرح کوشش کی جائے کہ ہر گاؤں میں دو تین طالب علم اعلیٰ تعلیم حاصل کر لیں۔حضور نے اپنی اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ ” جو احمدی اپنے بچوں کو پرائمری تک تعلیم دلوا سکتے ہیں وہ کم از کم مڈل تک اور جو مڈل تک تعلیم دلوا سکتے ہیں وہ کم از کم انٹریس تک اور جو انٹریس تک پڑھا سکتے ہیں وہ اپنے لڑکوں کو کم از کم بی اے کرائیں۔نیز فرمایا کہ چونکہ ہم تبلیغی جماعت ہیں اس لئے ہمارے لئے لازمی ہے کہ ہم سو فیصد تعلیم یافتہ ہوں“۔اسی ضمن میں حضرت مصلح موعودؓ نے صدرانجمن احمدیہ کو ہدایت فرمائی کہ: وہ فوری طور پر نظارت تعلیم و تربیت کو ایک دو انسپکٹر دے جو سارے پنجاب کا دورہ کریں اور جو اضلاع پنجاب کے ساتھ دوسرے صوبوں کے ملتے ہیں اور ان میں احمدی کثرت سے ہوں ان کا دورہ بھی ساتھ ہی کرتے چلے جائیں۔یہ انسپکٹر ہر ایک گاؤں اور ہر ایک شہر میں جائیں اور لسٹیں تیار کریں کہ ہر جماعت میں کتنے لڑکے ہیں۔ان کی عمریں کیا ہیں ان میں کتنے پڑھتے ہیں اور کتنے نہیں پڑھتے۔ان کے والدین کو تحریک کی جائے کہ وہ انہیں تعلیم دلوائیں اور کوشش کی جائے کہ زیادہ سے زیادہ لڑ کے ہائی سکولوں میں تعلیم حاصل کریں اور ہائی سکولوں سے پاس ہونے والے لڑکوں میں سے جن کے والدین استطاعت رکھتے ہوں ان کو تحریک کی جائے کہ وہ اپنے بچے تعلیم الاسلام کا لج میں پڑھنے کے لئے بھیجیں۔( الفضل 30 اکتوبر 1945ء) اس خطبہ کی اشاعت پر نہ صرف بیرونی جماعتوں نے توسیع تعلیم سے متعلق اعداد و شمار کے مطلوبہ نقشے بھجوائے بلکہ اس سکیم کو جلد سے جلد نتیجہ خیز کرنے کے لئے حضرت مصلح موعودؓ کی منظوری سے دو