خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 226 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 226

226 ضروری ہے۔۔۔۔پس نو جوانوں کو خصوصیت سے سائنس کی طرف توجہ کرنی چاہئے یہ خوشی کی بات ہے کہ ہماری جماعت کے نوجوان سائنس کی طرف توجہ کر رہے ہیں مگر موجودہ توجہ سے انہیں زیادہ توجہ کرنی چاہئے بلکہ آرٹ کی نسبت بھی سائنس کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہئے۔ہمارے منتظمین کو چاہئے کہ وہ سائنس کا سامان زیادہ مہیا کریں اور طالبعلموں کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو اتنا محنتی بنا ئیں کہ کالج یا سکول والوں کو انہیں لینے میں کوئی عذر نہ ہو۔تعلیمی وظائف انوار العلوم جلد 19 ص 372 تا 374) جماعت احمدیہ نے 1939ء میں خلافت احمدیہ کی سلور جوبلی منائی۔اس موقع پر حضور کی خدمت میں جماعت کی طرف سے 3 لاکھ روپے نذرانہ پیش کیا گیا۔حضور نے اس رقم کے مصارف کا ذکر کرتے ہوئے 28 دسمبر 1939ء کے خطاب میں فرمایا:۔آرٹ اور سائنس کی تعلیم نیز غربا کی تعلیم وترقی بھی خلفاء کا اہم کام ہے۔ہماری جماعت کے غربا کی اعلی تعلیم کے لئے فی الحال انتظامات نہیں ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ کند ذہن لڑکے جن کے ماں باپ استطاعت رکھتے ہیں تو پڑھ جاتے ہیں مگر ذہین بوجہ غربت کے رہ جاتے ہیں۔اس کا نتیجہ ایک یہ بھی ہے کہ ملک کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس رقم سے اس کا بھی انتظام کیا جائے اور میں نے تجویز کی ہے کہ اس کی آمد سے شروع میں فی الحال ہر سال ایک ایک وظیفہ مستحق طلباء کو دیا جائے۔پہلے سال مڈل سے شروع کیا جائے۔مقابلہ کا امتحان ہو اور جولڑ کا اول رہے اور کم سے کم ستر فیصدی نمبر حاصل کرے اسے انٹرنس تک بارہ روپیہ ماہوار وظیفہ دیا جائے اور پھر انٹرنس میں اول، دوم اور سوم رہنے والوں کو تمیں روپیہ ماہوار، جو ایف اے میں یہ امتیاز حاصل کریں انہیں 45 روپے ماہوار اور پھر جو بی اے میں اول آئے اسے 60 روپے ماہوار دیا جائے اور تین سال کے بعد جب اس فنڈ سے آمد شروع ہو جائے تو احمدی نوجوانوں کا مقابلہ کا امتحان ہو اور پھر جو لڑ کا اول آئے اسے انگلستان یا امریکہ میں جا کر تعلیم حاصل کرنے کے لئے اڑھائی سو روپیہ ماہوار تین سال کے لئے امداد دی جائے۔اس طرح غربا کی تعلیم کا انتظام ہو جائے گا اور جوں جوں آمد بڑھتی جائے گی ان وظائف کو