خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 225 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 225

225 تعالیم آئندہ زمانہ کی دولت ہے 1947 ء میں ہجرت کے پُر آشوب حالات میں مصلح موعودؓ نے نو جوانوں کو تعلیم حاصل کرنے کی پر زورتحریک کی اور یہ بھی راہنمائی کی کہ انہیں کس قسم کی تعلیم حاصل کرنی چاہئے۔چنانچہ حضور نے 28 دسمبر 1947ء کو جلسہ سالانہ کی تقریر بمقام لاہور میں فرمایا:۔تعلیم آئندہ زمانہ کی دولت ہے اور اس دولت کو موجودہ زمانہ کی مصیبت کی وجہ سے برباد نہیں کرنا چاہئے۔اس زمانہ کی مصیبت کا بوجھ ہم کو خود برداشت کرنا چاہئے۔آئندہ زمانہ اپنے ساتھ نئی ذمہ داریاں اور نئے بوجھ لائے گا اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان ذمہ داریوں کے لئے اپنی آئندہ نسل کو تیار نہ کریں۔پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ جن جن دوستوں کے بیٹے گھر میں بیٹھے ہیں وہ انہیں تعلیم پر مجبور کریں۔آخر ہر ایک کا بیٹا مصیبت میں مبتلا نہیں بعض اس خوشی میں بیٹھے ہیں کہ اچھا ہوا پڑھائی ختم ہوگئی۔دوستوں کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کی اس خوشی میں شریک نہ ہوں یہ حقیقی خوشی نہیں بلکہ ان کے مستقبل کو تباہ کرنے والی بات ہے۔جس جس کا بچہ گھر میں بیٹھا ہو اس کا فرض ہے کہ وہ اسے کالج یا سکول میں داخل کرے۔تعلیم الاسلام کالج اب لاہور میں کھل گیا ہے اور تعلیم الاسلام ہائی سکول چنیوٹ میں ہے والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے لڑکوں کو فوری طور پر ان درسگاہوں میں بھجوا دیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ حالات میں ہمارا سائنس کا سامان ضائع ہو گیا ہے مگر بہر حال تعلیم جاری رکھنے کے لئے ہم نے فورمن کرسچین کالج والوں سے سائنس کا سامان مستعار طور پر لیا ہے۔ایک دو ماہ تک اس سے کام چلائیں گے۔اس کے علاوہ میں نے یورپ اور امریکہ سے بھی سائنس کے سامان کے متعلق خطوط لکھے ہوئے ہیں کچھ سامان مل گیا ہے اور کچھ ابھی تک نہیں ملا۔بہر حال اپنے کالج میں اپنے انتظام کے ماتحت لڑ کے تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔لیکن آئندہ کے لئے جماعت کو یہ امر یا درکھنا چاہئے کہ لڑکوں کی تعلیم ایک نہایت اہم چیز ہے خود انہیں بھوکا رہنا پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں، پھٹے پرانے کپڑے پہننے پڑیں تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اولا د کو ضرور تعلیم دینی چاہئے۔خصوصاً سائنس کی طرف ہمارے طلباء کو زیادہ توجہ کرنی مستقبل کی بنیاد اب سائنس پر ہی پڑنے والی ہے اور اس طرف نوجوانوں کا متوجہ ہونا نہایت