خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 222
222 تعلیم الاسلام کا لج کا آغاز سید نا حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں تعلیم الاسلام کالج کا افتتاح 28 مئی 1903 ء کو ہوا۔مگر بعد میں حکومت کی طرف سے ایسی شرائط تمام تعلیمی اداروں کے لئے نافذ کر دی گئیں کہ ایک غریب جماعت کے لئے کالج کا جاری رکھنا نہایت دشوار تھا۔چنانچہ کالج کو بند کردیا گیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے خلیفہ بنتے ہی 12 / اپریل 1914ء کو نمائندگان مشاورت سے خطاب کرتے ہوئے کالج کے متعلق اپنی دلی آرزو کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا :۔اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہمارا اپنا ایک کالج ہو۔حضرت خلیفہ امسیح کی بھی یہ خواہش تھی۔کالج ہی کے دنوں میں کیریکٹر بنتا ہے۔سکول لائف میں تو چال چلن کا ایک خاکہ کھینچا جاتا ہے۔اس پر دوبارہ سیاہی کالج لائف ہی میں ہوتی ہے۔پس ضرورت ہے کہ ہم اپنے نو جوانوں کی زندگیوں کو مفید اور مؤثر بنانے کے لئے اپنا ایک کالج بنا ئیں۔پس تم اس بات کو مد نظر رکھو میں بھی غور کر رہا ہوں“۔منصب خلافت - انوار العلوم جلد 2 ص 51 کالج کے احیاء کی تحریک 1943 ء کی مجلس مشاورت کے دوران اللہ تعالیٰ نے حضور کے دل میں تحریک کی کہ جلد سے جلد اپنا کالج کھول دینا چاہئے اور پھر اس تحریک کے فوائد اور نتائج بھی حضور کو سمجھا دیئے۔الفضل 31 مئی 1944 ء ص 5) چنانچہ حضور نے 24 مارچ 1944 ء کے خطبہ جمعہ میں اور 19 را پریل 1944ء کو مجلس مشاورت کے دوران ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی تحریک فرمائی۔1 لاکھ روپے کی تحریک: حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا:۔”ہم نے قادیان میں کالج شروع کر دیا ہے۔ابتدائی اخراجات کے لئے ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی ضرورت ہے۔عمارت وغیرہ کے لئے قرض لے کر روپیہ دے دیا گیا ہے تا کام شروع ہو سکے۔۔