خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 221 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 221

221 اعلیٰ تعلیم دلوائیں بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کے بارہ میں حضور فرماتے ہیں:۔جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہے وہ اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلائیں اور وہ لوگ جنہیں استطاعت نہیں۔انہیں چاہئے کہ وہ سب مل کر اپنے گاؤں کے کم از کم ایک اچھے اور ہونہار طالب علم کو اعلی تعلیم دلائیں اور پھر وہ طالب علم جب بر سر کار ہو تو آگے کسی اور طالب علم کی پڑھائی کا بوجھ اٹھائے اس طرح وہ طالب علم دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائے گا اور دوسرے طالب علموں میں بھی تعلیم کا شوق پیدا ہوگا۔ترقی کرنے والی قوم کے لئے ایک نہایت اہم سوال ہوتا ہے کہ اس کے جوان زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ ہوں۔کیونکہ تعلیم یافتہ آدمی بات کی تہہ تک جلدی پہنچ جاتا ہے اور جس پیشے کو وہ اختیار کرتا ہے اس میں بہت جلد مہارت حاصل کر لیتا ہے اور ہر وقت یہ بات اس کے مدنظر رہتی ہے کہ میں قوم کا ایک مفید جزو بنوں۔اس لئے ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہماری جماعت کے نوجوان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں“۔(روز نامہ الفضل 13 /اکتوبر 1960ء) آپ نے جب صدر انجمن احمد یہ میں نظارتوں کا قیام فرمایا تو نظارت تعلیم بھی قائم فرمائی جس کے فرائض کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اس صیغہ کے ذمہ یہ کام ہو گا کہ جماعت کے لڑکوں کی فہرستیں تیار کرائے اور معلوم کرے کہ مثلاً زید کے تین لڑکے ہیں ان کی تعلیم کا کوئی انتظام ہے یا نہیں اور وہ دینی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں یا نہیں۔اگر معلوم ہو کہ نہیں تو اسے لکھا اور سمجھایا جائے کہ اپنے بچوں کی تعلیم کا انتظام کرے۔ایسے لوگ خواہ کہیں رہتے ہوں ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت کی نگرانی یہ صیغہ کرے گا اور ممکن سہولتیں مہیا کرنا اس کا فرض ہوگا اس طرح تمام جماعت کے بچوں پر اس صیغہ کی نگرانی ہوگی۔پھر جو شخص فوت ہو جائے گا اس کی اولاد کے متعلق یہ دیکھا جائے گا کہ اس کی تعلیم و تربیت کا کیا انتظام ہے۔اس کے رشتہ داروں نے کچھ کیا ہے یا نہیں۔اگر کیا ہے تو وہ تسلی بخش ہے یا نہیں اور کس قدر امداد دینے ( سوانح فضل عمر جلد دوم ص 132) 66 کی ضرورت ہے۔