خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 223 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 223

223 میں جماعت میں یہ تحریک کرتا ہوں کہ عام چندوں کے معیار کو قائم رکھتے ہوئے وہ اس چندہ میں حصہ لے اور مجھے امید ہے کہ جماعت کا مالدار حصہ خصوصاً وہ لوگ جن کو جنگ کی وجہ سے ٹھیکوں وغیرہ کے ذریعہ یا دوسرے ایسے ہی کاموں کے ذریعہ زیادہ روپیہ ملا ہے۔۔۔وہ اس طرف توجہ کریں۔یا وہ زمیندار جن کی آمدنیاں بڑھ گئی ہیں۔دین کے حصہ کو نہ بھولیں۔پس ایسے لوگ اس چندہ میں خاص طور پر حصہ لیں۔میں کسی کو محروم نہیں کرتا۔غریب لوگ بھی حصہ لے سکتے ہیں اور اگر کوئی غریب ایک دھیلہ بھی دیتا ہے تو وہ رد نہیں بلکہ شکریہ کے ساتھ قبول کیا جائے گا اور اس امید کے ساتھ کیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ اسے ایک لاکھ روپیہ دینے والے امیر سے زیادہ ثواب دے گا“۔(الفضل 31 مارچ 1944ء) حضور کی اس تحریک کے بعد چھ ماہ کے اندر یعنی اکتوبر تک جماعت کی طرف سے 151000 روپے کے وعدے ہوئے اس کے بعد جن لوگوں نے اس تحریک میں حصہ لیا وہ ان کے علاوہ تھا۔بعد میں محترم ناظر صاحب بیت المال نے جماعت سے اس رقم کو دو لاکھ تک پہنچا دینے کی اپیل کی اور جماعت نے یہ مطلوبہ رقم پوری کر دی۔بچے بھیجوانے کی تحریک: 5 مئی 1944 ء کے خطبہ جمعہ میں حضور نے کالج کے لئے طلباء بھجوانے کی تحریک فرمائی۔کالج شروع کر دیا گیا ہے۔پروفیسر بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے مل گئے ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ چندہ جمع کیا جائے اور لڑکوں کو اس میں تعلیم کے لئے بھجوایا جائے۔ہر وہ احمدی جس کے شہر میں کالج نہیں وہ اگر اپنے لڑکے کو کسی اور شہر میں تعلیم کے لئے بھیجتا ہے تو کمزوری ایمان کا مظاہرہ کرتا ہے۔بلکہ میں کہوں گا ہر وہ احمدی جو توفیق رکھتا ہے کہ اپنے لڑکے کو تعلیم کے لئے قادیان بھیج سکے خواہ اس کے گھر میں ہی کالج ہوا گر وہ نہیں بھیجتا اور اپنے ہی شہر میں تعلیم دلواتا ہے تو وہ بھی ایمان کی کمزوری کا مظاہرہ کرتا ہے“۔(الفضل 20 مئی 1944ء) 7 مئی 1944ء کو حضور نے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو کالج کا پرنسپل مقر رفرمایا اور 26 مئی کو فضل عمر ہوٹل قائم کر دیا گیا۔کالج کا باقاعدہ افتتاح 4 جون 1944ء کو حضرت مصلح موعودؓ نے نہایت پر معارف خطاب سے فرمایا۔پہلے سال میں 60 کے لگ بھگ طلباء داخل ہوئے۔