خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 116 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 116

116 سامنے آئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بہت حد تک پوری ہو چکی ہیں اور مخالفوں کی مخالفت ہمارے رستہ میں روک بننے کی بجائے کھاد کا موجب ہوئی ہے۔بعض دوستوں نے لکھا اور بعض نے بیان کیا ہے کہ جن لوگوں کے پاس جا کر ہم نے دس پندرہ منٹ صرف اپنی آمد کی غرض بتانے میں صرف کرنے تھے انہوں نے دیکھتے ہی کہہ دیا اچھا آپ آج ہمیں تبلیغ کرنے کے لئے آئے ہیں ہم تو پہلے ہی سمجھتے تھے کہ آپ نے ہمیں چھوڑنا نہیں۔اچھا آئیے سنائیے گویا اس مخالفت سے وہ ہزاروں لاکھوں آدمی جن تک ہماری آواز پہنچنا مشکل تھی یا جن کے گھروں پر جا کر دس پندرہ منٹ اپنی آمد کی غرض سمجھانے میں ہمیں صرف کرنے پڑتے انہیں مخالفوں کی آواز نے پہلے ہی تیار کر دیا۔”زمیندار ، حریت اور مولوی ثناء اللہ صاحب وغیرہ معاندین نے انہیں بتا دیا کہ فلاں تاریخ کو احمدی تمہارے پاس آئیں گے ان کے پاس وقت چونکہ تھوڑا ہے اس لئے اسے ضائع نہ کرنا ان کی آمد کی غرض ہم تمہیں بتائے دیتے ہیں اور اس طرح وہ ہزارہا گھنٹے جو احمدیوں کے اپنے آنے کی تمہید میں ضائع ہونے تھے بچ گئے بہر حال مخالفوں کی مخالفت نے بھی ہمیں فائدہ ہی پہنچایا ہے اور میں سمجھتا ہوں اگر یہ نہ ہوتی تو 6 شاید ہماری تبلیغ اس سے آدھی بھی نہ ہو سکتی جتنی کہ اب ایک جگہ ہمارے آدمی گئے تو ان میں سے ایک نے اس مکان میں جہاں وہ جا کر بیٹھے باہر سے کنڈی لگادی تا دوسرے لوگ آکر ان کی باتوں کو نہ سن سکیں۔لیکن اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ان کے اپنے پانچ سات آدمی جو وہاں پہلے سے موجود تھے ان کو خوب تبلیغ کی گئی۔کنڈی باہر سے لگی رہی اور وہ مجبوراً بیٹھے سنتے رہے۔میں سمجھتا ہوں اُس وقت کی تبلیغ بھی زیادہ مؤثر ہوئی ہوگی۔اگر ہمارے آدمی کی طرف سے کنڈی لگائی جاتی تو ان پر اور قسم کا اثر ہوتا وہ اسے شرارت پر محمول کرتے اور بھڑک جاتے لیکن جب ان کے اپنے آدمی کی طرف سے ایسا ہوا تو ہمارے مبلغین پر غصہ نہیں ہو سکتے تھے بلکہ ان سے گونہ ہمدردی پیدا ہوئی ہوگی تو کچھ دیوانگی ہم سے بھی ہونی چاہئے تھی اور وہ یہ کہ شدید مخالفوں کے گھروں میں جاتے مثلاً مولوی ظفر علی ، مولوی ثناء اللہ مولوی اشرف تھانوی وغیرہ اور ایسے مخالفوں کے مکانوں پر پہنچ کر انہیں تبلیغ کرتے لیکن بہر حال اس سے جو نتائج نکلے ہیں وہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ بہت ہی مفید چیز ہے۔خطبات محمود دجلد 13 ص 612 و 615 - خطبه فرموده 21 /اکتوبر 1932 ء )